خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 487 of 703

خطبات نور — Page 487

کار فروری ۱۹ء فرمایا :- 487 خطبہ جمعہ میں نے بہت عرصہ پہلے خواب میں دیکھا کہ خدا کا غضب بھڑک اٹھا ہے اور زمین تاریک ہو چلی ہے۔پہلے طاعون پھیلا ہے پھر اس کے بعد ہیضہ پڑا ہے۔چند خاص دوستوں کو میں نے یہ خواب سنا بھی دیا اور دعا شروع کی کہ الہی! تو اپنے فضل و کرم سے احمدی جماعت پھر خصوصیت سے قادیان کی جماعت پر اپنا رحم فرما۔پھر چند روز ہوئے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ملک میں خطرناک طاعون ہے اور ایک عظیم الشان محل ہے جس میں ہم لوگ ہیں۔گویا خدا تعالٰی نے فرمایا کہ ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں کہ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔اب صرف اتنی بات ہے کہ ہم اپنے تئیں اس محل میں رہنے کے اہل ثابت کریں۔پھر کچھ دن ہوئے میں نے دیکھا کہ انہی ہماری دوکانوں پر شیر حملہ کر رہا ہے۔پس میں ڈر گیا اور بہت دعا کی اور بارگاہ الہی میں عرض کیا کہ طریق نجات کیا ہے؟ تو مجھ پر کھولا گیا کہ خدا کے حضور کھڑے رہنا اور دعائیں۔طوفان میں ایک کشتی ہے جو ٹوٹی ہوئی ہے مگر دعاؤں سے جڑ سکتی ہے۔پھر میں اس بات پر غور کر رہا تھا کہ ملک میں وہا کیوں پھیلتی ہے تو ایک ملک نے ابھی رستے میں آتے ہوئے مجھے تحریک کی کہ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ الذريت:۵۷)۔ہر شخص فائدے کے لئے کوئی چیز بناتا ہے۔مثلاً باغبان درخت لگاتا ہے۔اب جب تک وہ چیز مثلا درخت فائدہ دے اسے نہیں اکھیڑا جاتا لیکن جب وہ غرض جس کے لئے وہ شے بنائی گئی پوری نہ کرے تو پھر اس شے کو توڑ دیا جاتا ہے۔ادنی سے