خطبات نور — Page 461
۲۵ فروری ۱۹۱۰ء 461 خطبہ جمعہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَ الطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ (جامع الصغير) ہر دو رکعت کے بعد پڑھا جاتا ہے۔جس قدر کوئی احسان کرے اسی قدر اس سے محبت بڑھتی ہے اور ایثار پیدا ہوتا ہے۔نبی کریم نے فرمایا جُبِلَتِ القُلُوبُ عَلى حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْهَا (جامع الصغير) اللہ نے ہم پر کیا کیا احسان کئے ہیں۔معدوم تھے وجو د دیا، پھر وجود بھی انسانی دیا۔پھر مسلمان پیدا کیا اور مسلمانوں میں بھی اس مذہب پر چلایا جو کسی صحابی کو برا نہیں کہتا۔میں نے تاریخ کی بڑی بڑی کتابیں پڑھی ہیں، تَشْيدُ الْمَطَاعِن بھی۔مگر ان کے مطالعہ کے بعد بھی میرے دل میں صحابہ کی محبت کے سوا کچھ نہیں۔پھر ہم مسلمانوں کے اس فرقے سے ہیں جو اہل بیت سے سچی محبت رکھتے ہیں۔پھر اس نے مجھے پر تو یہ غریب نوازی بھی کی کہ میں وہ گروہ جو اہل اللہ ، صوفیاء اور اولیاء کا ہے ان کے اقوال کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔سہروردی، چشتی قادری، نقشبندی، حضرت خواجہ عثمان خواجہ معین الدین ، حضرت فرید الدین شکر گنج حضرت