خطبات نور — Page 460
460 آپ کی بی بی فرماتی ہیں۔إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ (بخارى كيف كان بدء الوحی)۔پہلی بات تو تم میں یہ ہے کہ جہاں ماں کا تعلق ہو یا بی بی کا اس کا تو بہت لحاظ رکھتا ہے۔ماں کے سبب سے بھائیوں سے محبت ہوتی ہے، دادی کے سبب بچوں کے ساتھ۔جو لوگ رحم کا لحاظ رکھتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں ان کو اللہ ذلت سے بچاتا ہے۔(۲)۔وَتَحْمِلُ الْكَلَّ کسی بیچارے کے دکھ کو برداشت کر لیتا ہے۔کسی کے دکھ درد میں شریک ہوتا اور اس کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔(۳)۔وَتَقْرِى الضَّيْفَ نووارد کی مہمان نوازی کرتا ہے (۴)۔وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ اور جو ضرورتیں وقتاً فوقتاً قوم و دین کے لئے پیش آئیں تو ان ضرورتوں کے لئے جان مال سے مدد کرتا ہے۔(۵)۔وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ جو بات منہ سے نکالتا ہے وہ سچ ہوتی ہے۔افسوس کہ آجکل لوگ معاہدات کا خلاف کرتے ہیں اور جھوٹ بولنا معمولی بات سمجھتے ہیں اور امانت میں خیانت کرتے ہیں۔(۲)۔وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ جو پاک فضیلتیں اور سچائیاں معدوم ہو گئی ہیں ان کو تو از سرنو رواج دیتا ہے۔مومن کو چاہئے کہ ایسی صحبتوں کو حاصل کرے جن میں بیٹھ کر اس کی اصلاح ہو۔تم بھی یہ نیکیاں حاصل کرو۔یاد رکھو کہ ہر ایک نیکی و بدی بمنزلہ بیج کے ہے اور ابتداء میں نیک یا بد کام بہت خفیف ہوتا ہے مگر بڑھتے بڑھتے بڑا عظیم الشان ہو جاتا ہے۔بد نظری ایک خفیف بات معلوم ہوتی ہے مگر یہی بڑھتے بڑھتے زنا تک پہنچتی ہے۔پس تم اپنے اعمال کا محاسبہ کرو کہ بدی کو ابتداء میں روکو اور چھوٹی سے چھوٹی نیکی کے حاصل کرنے میں بھی دیر نہ لگاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دیوے۔آمین۔( بدر جلد ۹ نمبر ۸ - ۲۴ فروری ۱۹۱۰ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑