خطبات نور — Page 448
! ۱۴ جنوری ۱۹۱۰ء 448 خطبہ جمعہ حضرت امیرالمومنین نے کمال مہربانی سے جناب اکمل صاحب کی درخواست کو شرف قبولیت عطا فرما کر جمعہ کے خطبہ میں تصوف پر تقریر فرمائی جو ناظرین کے فائدہ کے واسطے درج ذیل ہے۔حضور نے آیات قرآنى الركِتُبُ أَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَوَيْلٌ لِلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (ابراهیم:۲-۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تصوف کیا چیز ہے؟ یہ آیت میں نے اسی نقطہ خیال پر پڑھی ہے۔یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ظلمات سے نور کی طرف نکالنے والا فرمایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت انسان پر ایسا گزرتا ہے کہ اس کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وعظ موجب بنتا ہے ظلمات سے نکال کرا نور کی طرف لے جانے کا۔مگر ایک اور جگہ پر فرمایا ہے اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنْ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ (البقرۃ:۲۵۸)۔گویا وہی نسبت جو پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف فرمائی پھر اللہ نے وہی کام اپنی طرف منسوب فرمایا۔یہ بات قابل غور ہے۔