خطبات نور — Page 437
437 ا تھا بوجہ تنگی وقت و دیگر مصالح وہیں مختصر بات پر روک دیا گیا۔ایڈیٹر اس لئے اسی مختصر بات کے ساتھ کچھ اور نصائح ایزاد کرتا ہوں کہ تمہارے کاموں میں تعظیم لامر اللہ ہو اور شفقت علی خلق اللہ ہو کیونکہ فرمايا - أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد:)۔جو مصر وجود ہوتے ہیں وہ خود بھی سکھ نہیں پاتے، دوسروں کو بھی سکھ نہیں کر لینے دیتے۔آپ بھی دوزخ میں رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف پہنچاتے ہیں۔پس تم مضر نہیں بلکہ نافع الناس وجود بنو۔سب سے بھاری مسئلہ یہ ہے کہ وقتوں کی حفاظت کرو۔دعا سے کام لو۔صحبت صلحاء اختیار کرو۔صحبت صلحاء بڑھاؤ۔محبت کا اصول یہ ہے کہ جُبِلَتِ القُلوبُ عَلى حُبّ مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْهَا۔میری فطرت میں یہ بات ہے کہ جو کام کسی کو بتاؤں اور وہ نہ کرے تو میری اس کے ساتھ محبت نہیں رہ سکتی۔خدا کی محبت کا بھی یہی حال ہے۔وہ اپنی فرمانبرداری کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔قربانی کے مسائل قربانی میں دو برس سے کم کوئی جانور نہیں چاہئے یہی میری تحقیق ہے۔(۲) جس کے سینگ بالکل نہ ہوں وہ جائز ہے۔(۳) خصی جائز ہے۔(۴) مادہ بھی جائز ہے۔نبی کریم میں اللہ ہمیشہ چھترا قربانی دیتے جس کا نہ آنکھیں ، پیٹ پاؤں سیاہ ہوتے۔جو بالکل دبلا ہو وہ جائز نہیں۔اگر جانور موٹا ہو، خواہ اسے خارش ہو تو بھی اسے جائز رکھا ہے۔(۵) لنگڑا مناسب نہیں۔تم قربانیاں کرو اس یقین کے ساتھ کہ ان میں تصویری زبان کے ذریعے تمہیں فرمانبرداری کی تعلیم ہے اور یہ کہ تم بھی ادنی کو اعلیٰ کے لئے قربان کرنا سیکھو۔اللہ تمہیں توفیق بخشے۔آمین۔(بدر جلد ۹ نمبر ۳۰۰۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱ تا ۳)