خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 430 of 703

خطبات نور — Page 430

430 بعض تو اپنے گزارے کے لئے میلہ لگاتے ہیں۔بعض خاص چندے یا نذر و نیاز کے حصول کے لئے اور بعض محض اپنی عظمت و جبروت کے اظہار کے لئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک احسان ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے جہاں بڑے بڑے احسانات ہیں ان میں میلوں کی اصلاح بھی ہے۔چونکہ یہ ایک فطرتی بات تھی اس لئے ان کو ضائع نہیں کیا، صرف اصلاح کر دی۔اور وہ یوں کہ جہاں ہر رسم و رواج کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور شفقت علی خلق اللہ کے نیچے رکھ لیا وہاں ان میلوں میں بھی یہی بات پیدا کر دی۔عیدین میں تعظیم لامر اللہ اور شفقت على خلق الله مثلاً عید کامیلہ ہے۔آپ نے اس میں اول تو تکبیر کو لازم ٹھہرایا اور خدا کی تعظیم کے اظہار کے لئے وہ لفظ مقرر کیا جس سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں۔صفات میں اکبر سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں اور جامع جمیع صفات کاملہ ہونے کے لحاظ سے اللہ سے بڑھ کر اس مفہوم کو کوئی ظاہر نہیں کر سکتا۔مخلوق پر شفقت کرنے کے لئے رمضان کی عید میں صدقۃ الفطر کو لازم ٹھہرایا۔یہاں تک کہ نماز میں جب جاوے تو اس کو ادا کر لے اور پھر یہ صدقہ خاص جگہ جمع کرے تاکہ مساکین کو یقین ہو جائے کہ ہمارے حقوق کی حفاظت کی جائے گی۔پھر یہ عید ہے۔اس میں مساکین وغیر ہم کے لئے سيّدُ الطَّعَامِ لَحْمُ (ابن ماجه - كتاب الاطعمة) یعنی گوشت کی مہمانی کی ہے۔پس کیا ہی مستحق ہے صلوۃ و سلام کا وہ رسول جس نے ہمیں ایسی عمدہ راہ دکھائی۔یہ چیزیں صرف اسی بات کے لئے تھیں کہ اللہ کی نسبت فرائض جو انسان کے ہیں اور جو فرائض مخلوق کی نسبت ہیں ان کو پورا کریں۔مگر دنیا کے کسی میلے کو دیکھ لو ان میں یہ حق و حکمت کی باتیں نہیں جو عیدین میں ہیں۔عیدین کی حکمت عید میں تنگی نہیں کی بلکہ فرمایا کہ اگر جمعہ وعید اکٹھے ہو جائیں تو گاؤں کے لوگوں کو جو باہر سے شریک ہوئے ہیں جمعہ کے لئے انتظار کی تکلیف نہ دی جائے۔وحدت کا مسئلہ بھی خوب سکھایا ہے۔پہلے تو ہر