خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 416 of 703

خطبات نور — Page 416

416 ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (البقرۃ:۳)۔ایمان بالغیب ایسا ضروری ہے کہ دنیا کا کوئی کام اس کے بغیر نہیں ہوتا۔پہاڑے، مساحت، اقلیدس، طبعیات، سب کے لئے فرضی بنیاد پر کام ہوتا ہے یہاں تک کہ پولیس بھی ایک بدمعاش کے کہنے پر بعض مکانوں کی تلاش شروع کر دیتی ہے۔تو کیا وجہ کہ انبیاء کے کہنے پر کوئی کام نہ کیا جائے جس کا تجربہ بارہا کئی جماعتیں کر چکی ہیں۔پھر فرمایا۔يُقِيمُونَ الصَّلوةَ (البقرة: دعاؤں میں، نمازوں میں قائم رہتے ہیں۔وہ مالوں کو خرچ کرتے ہیں۔بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ (البقرة:۵) اور مِنْ قَبْلِكَ (البقرة:۵) اور آخرت پر ان کا ایمان ہوتا ہے۔مغضوب اور ضالین پھر دوسرے گروہ کی صفات بیان کیں کہ ان کے لئے تذکیر و عدم تذکیر مساوات کا رنگ رکھتی ہے۔وہ سنتے ہوئے نہیں سنتے۔ان میں عاقبت اندیشی نہیں ہوتی۔صُمٌّ بُكْم (البقرة:9) ہوتے ہیں۔پھر انہی کی نسبت اخیر قرآن میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کو مَا كَسَبَ یعنی جتھا اور مال دونوں پر بڑا گھمنڈ ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ دونوں کو غارت کر دیتا ہے۔پھر تیسرے گروہ ”ضالین " کا ذکر فرمایا کہ ان کو صفات الہی کا صحیح علم نہیں ہوتا اور ان میں نہ تو قوت فیصلہ ہوتی ہے نہ تاب مقابلہ۔قرآن شریف کے ابتدا کو آخر سے ایک نسبت ہے۔پہلے اَلْمُفْلِحُونَ (البقرة :) فرمایا ہے تو إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (النصر:)) میں اس کی تفسیر کر دی اور مغضوب علیم کی تَبَّتْ يَدَا بِي لَهَبٍ (الله :) میں اور ضالین کارد قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ (الاخلاص:۲) میں کر دیا ہے۔غرض عجیب ترتیب سے ان تینوں گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ان سب کی صفات بیان کر کے میں تمہیں مکرر نصیحت کرتا ہوں کہ تم سوچو منعم علیہم میں سے ہویا مغضوب علیہم میں یا ان لوگوں میں جن کو ضالین کہا گیا ہے؟ خاتمہ بالخیر کی امید میں نے تمہیں بہت کچھ کہہ دیا ہے اور گول بات ہر گز نہیں کی۔میں مومن ہو کر مرنا چاہتا ہوں۔میں اللہ سے اس کی رحمت کا امیدوار ہوں۔جیسے اس نے اس عمر تک میری تربیت کی اور میری ہدایت کا موجب ہوا اسی طرح میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میرا خاتمہ بھی بالخیر کرے گا اور میری موت قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کی حالت میں کرے گا۔