خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 415 of 703

خطبات نور — Page 415

415 گروہوں کا ذکر ہے۔چنانچہ سورۃ بقرہ ہی کو لو کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرۃ:۳) میں منعم علیہم کا ذکر ہے۔إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا (البقرة:6) میں مغضوب علیم کا اور أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى (البقرۃ:۱۷) میں ضالین کا۔خاتمه قرآن یہ ابتداء کا حال ہے۔اب جہاں قرآن ختم ہوتا ہے وہاں سورۃ نصر إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (النصر) میں منعم علیم کا بیان ہے اور تَبَّتْ يَدَا بِي لَهَبٍ (اللهب:) میں مغضوب علیہم کا اور هُوَ الله احد NLOADلصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ (الاخلاص : (تام) میں ضالین کی تردید ہے۔اس واسطے ہم کو چاہئے کہ بہت فکر کریں اور اپنا آپ محاسبہ کریں۔اپنے اعمال کو دیکھیں کہ ہم کس فریق کے کام کر رہے ہیں۔آیا منعم علیم کے یا مغضوب علیہم کے یا ضالین کے؟ کچھ اپنی حالت کا ذکر میں جو کچھ تمہیں کہتا ہوں صاف صاف کہتا ہوں۔میں منافق نہیں۔جو کچھ میری عمر ہے وہ آجکل کی عمروں کے مطابق انتہائی زمانہ ہے۔ستر برس سے تجاوز ہے۔اب اتنی عمر مجھے اور پانے کی امید نہیں اور اگر ہو بھی تو يُرَدُّ اِلَی اَرْذَلِ الْعُمُرِ (النحل) کی مصداق ہے۔پھر وہ قویٰ نہیں مل سکتے جو پہلے تھے۔پھر میری اولاد ایسی نہیں جو میری خدمت کرے اور مجھے بھی اس بات کی فکر نہیں کہ میری اولاد میرے بعد کس طرح گزارہ کرے گی۔کیونکہ جب میں نے اپنے باپ دادا کے مال سے پرورش نہیں پائی تو میں بڑا مشرک ہوں اگر اپنی اولاد کی نسبت میں یہ خیال کروں کہ ان کا گزارہ میرے مال پر موقوف ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمُ الامام علي جب رزق دینے کا خدا وعدہ کرتا ہے تو مجھے کیا فکر ہے۔پس اگر مجھے فکر ہے تو یہ کہ قبر اور قیامت میں میرے ساتھ جانے والا کوئی نہیں۔پس میں تم کو وعظ کرتا ہوں تو کیا اپنے تئیں بھلا دوں؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔منعم علیم تم ان تین گروہوں کے اوصاف پر غور کرو۔منعم علیہم گروہ کے لئے سب سے پہلی صفت بیان کرتا