خطبات نور — Page 414
414 الفاظ کے گرے ہوئے معانی عجیب عجیب غلط فہمیاں الفاظ سے پھیلتی ہیں اور جب کسی قوم میں ادبار آتا ہے تو اس کی اصطلاحات بھی بدل جاتی ہیں۔دیکھو مغل، ترک، قریشی ، پٹھان یہ چار قومیں باہر سے آئیں۔یہ فاتح بھی تھے لیکن جب ادبار کا وقت آیا اور ان میں بدی پھیلی تو قلعہ فتح کرنا آہ! پنجاب میں نہایت برے معنوں میں لیا جانے لگا۔جب کسی عورت سے ناجائز تعلق ہوا اور وہ ان کے قابو آئی تو یہ بول اٹھے کہ اے لو! فتح ہو گیا۔اسی طرح علم کا لفظ ہے۔إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر:۹) اس کی شان میں آیا۔مگر علم کے ذریعہ لوگ اکٹر ہاز ہو جاتے ہیں اور یہ تجاب اکبر بن گیا۔میں نے ایک شخص کو ریل میں معرفت کا ایک نہایت اعلیٰ نکتہ سنایا مگر اس نے مجھے کہا کہ تم کوئی طب کی بات کرو۔قرآن شریف تمہیں نہیں آتا۔میں حیران ہوا۔آخر اس کی وجہ معلوم ہوئی کہ وہ علم قرات پڑھا ہوا تھا۔چونکہ میں نے لفظ قرآن کو اس ترتیل و تجوید کے اصول کے مطابق ادا نہ کیا اس لئے وہ بگڑ گیا اور وہ نکتہ نہ سن سکا۔اس طرح پر اس کا علم بجائے خشیت کے تکبر کا موجب ہو گیا۔اسی طرح غنیمت کا لفظ ہے۔عرب میں ایک بچہ کو بھی رخصت کرتے ہیں تو ماں باپ کہتے ہیں سر سَالِمًا غَائِمًا - جا! اللہ تجھے سلامتی کے ساتھ واپس لاوے۔حدیث میں ہے لَهُ غَنَمُهُ وَعَلَيْهِ غَرَمُهُ (ابودائود باب اللقطه:) جس سے ثابت ہے کہ غنیمت کے معنے ہیں مفاد کا حصول۔مگر ہماری زبان میں اس کا ترجمہ کیا گیا لوٹ"۔اب چونکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کا مال حاصل کیا اس لئے ان کا نام (نعوذ باللہ ) لٹیرا رکھ دیا۔یہ غلطی کیوں ہوئی ؟ محض الفاظ کے غلط معنی کرنے سے۔اس لئے ضرورت ہے کہ لفظوں کے بولنے اور سمجھنے میں احتیاط سے کام لیا جاوے اور ان لوگوں کی بات مان لی جاوے جن کو خدا نے اپنے فضل و کرم سے فہم عطا کیا ہے اور یہ عطیہ الہی ہے۔چنانچہ فرمایا فَفَهَّمْنْهَا سُلَيْمَانَ (الانبیاء:) ہم نے سلیمان کو فہم عطا کیا۔سورۃ فاتحہ اس قدر تمہید کے بعد میں سورۃ فاتحہ کی طرف تم لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں تین فرقوں کا ذکر کیا ہے۔ایک اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (۲) ایک مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ (۳) ایک ضَالِّينَ۔میرا اعتقاد ہے کہ تمام قرآن سورۃ الحمد کی تفسیر ہے اور اس میں ایک خاص ترتیب سے انہی تینوں