خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 703

خطبات نور — Page 398

398 ملاں بھی حج کر رہا تھا۔اپنا روپیہ کب خرچ کیا ہو گا۔کرایہ کا ٹو بنکر گیا ہو گا۔یہودی نے کہا۔دیکھا وہ چوگا ڈالنا ضائع نہ گیا۔ایک واقعہ رسول کریم کے زمانے میں بھی ایسا ہوا کہ کسی نے سو اونٹ دیئے تھے۔پوچھا کیا وہ اکارت گئے؟ فرمایا نہیں۔اَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ (صحيح مسلم۔کتاب الایمان) اسی سے تو تمہیں اسلام کی توفیق ملی۔پس فرماتا ہے کہ مال دو باوجود مال کی محبت کے۔غیروں کو دیتے ہیں مگر رشتہ داروں کو دیتے میں مضائقہ ہوتا ہے۔فرمایا ان کو بھی دو اور یہ نہ کہو کہ اس کے باپ کے دادا کو ہمارے چچا کے نانا سے یہ دشمنی تھی۔پھر فرمایا یتیموں کو مسکینوں کو مسافروں کو اللہ کے نیک کاموں اسلام کی اشاعت میں خرچ کرو۔مشکلات کے تین وقت آتے ہیں۔ایک قرض ، سو اس میں بھی امداد کرو۔ایک غریبی جس میں انسان بہت سی بدیوں کا ارتکاب کر گزرتا ہے۔ایک بیماری۔فرمایا ان سب میں استقلال سے کام لو۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دیوے۔( بدر جلد ۸ نمبر۴۰-۱۲۹۰ جولائی ۱۹۰۹ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑