خطبات نور — Page 395
395 طریق کیا ہے۔یہ حدیث بھی صحیح ہے یا نہیں۔اگر میں تمہارا مقابلہ کروں تو تجھے ایسا ذلیل کروں کہ پھر کبھی ایسا کرنے کا نام نہ لے۔اسی طرح میں ایک دفعہ امر تسر تھا۔صبح کی نماز میں ایک صاحب آگئے اور وہ میرے ساتھ دس بجے تک پھرتے رہے۔میں نے قرآن شریف کی بہت سی باتیں سنائیں۔اتفاق سے میرا پاجامہ نیچا ہو گیا تو اس نے جھٹ اعتراض کر دیا۔میں نے کہا بد بخت! تجھے میری خوبی تو کوئی نظر نہ آئی۔کہا میں تو عیب چینی کی نیت سے ہی ساتھ شامل ہوا تھا۔اسی طرح میں ریل میں تھا۔ایک امیر شخص کی خاطر میں نے اسے ایک دو نکات قرآنی سنائے۔اس نے کہا کوئی طبابت کی بات کیجئے۔قرآن تو آپ کو آتا نہیں۔میں نے کہا یہ آپ کو کس طرح معلوم ہوا؟ کیا آپ نے آیت علم قرات کے مطابق نہیں پڑھی۔میں نے یہ بات اس لئے تمہیں سنائی تا تمہیں معلوم ہو کہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو تو پکڑتے ہیں مگر بڑی باتوں کی کچھ پروا نہیں کرتے۔گھر میں آئے ہیں۔بی بی نماز کی سست ہے۔شرک میں گرفتار ہے۔اس سے کوئی پر خاش نہیں کوئی لڑائی نہیں لیکن اگر ہانڈی میں تھوڑا سا نمک بھی زیادہ پڑ گیا تو گھر والوں کی شامت آگئی۔دیکھو یہ کیسا ظلم ہے۔اسی طرح میں نے گاؤں میں دیکھا۔لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر رفع یدین اور آمین پر ڈانگوں سے لڑتے ہیں۔میں نے ایسے لوگوں سے کہا کہ تم میں سے کئی ہیں جو نمازوں کے سست ہیں تو وہ کہنے لگے نماز کیا ہوتی ہے؟ اس کے نہ پڑھنے سے تو گنہگار ہی ہوتے ہیں مگر رفع یدین اور آمین میں تو ایمان کے جانے کا خطرہ ہے۔غرض لوگ آپس میں عجیب عجیب طور سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے ہیں اور بڑے نقصانوں کا کچھ خیال نہیں کرتے۔جب میں بہت ہی چھوٹا تھا تو ہمارے شہر میں غالبا صرف دو ہندؤوں کے گھر تھے جن کا زمیندارہ تھا۔باقی سارے شہر کا زمیندارہ مسلمانوں کے قبضے میں تھا جو تعداد میں بارہ ہزار ہوں گے اور ہندو چھ ہزار۔ہندؤوں کو حقارت سے کراڑ کہتے تھے مگر آج وہی کراڑ ہیں کہ مسلمانوں کی تقریباً ساری زمینوں کے مالک ہیں۔بجائے اس کے کہ مسلمان انہیں کراڑ کہیں اب شاہ جی کہتے ہیں جو اس سے پہلے سیدوں کو کہتے تھے۔پھر مسلمانوں میں باہمی اس قدر عناد ہے کہ میونسپلٹی میں جب رائے لی گئی تو مسلمانوں نے بھی ہندؤوں کے حق میں رائے دی۔یہ حالت کیوں ہوئی؟ میں نے دیکھا جو شخص آسودہ ہو وہ خود پسند اور خود رائے ہو جاتا ہے۔کسی کو مانتا نہیں۔جو کچھ دل میں آتا ہے وہی سچ سمجھتا ہے۔تکبر کا یہ حال ہے کہ جسے چند روز صحت یا جتھا مل جاوے یا مقدمہ میں کامیاب ہو جائے اور تدبیریں مفید پڑ جائیں