خطبات نور — Page 394
۱۴ مئی ۱۹۰۹ء 394 خطبہ جمعہ لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَ لَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ الْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَ النَّبِيِّنَ وَ اتَّى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَ الْيَتمى وَالْمَسَاكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ وَ السَّائِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ وَ أَقَامَ الصَّلوةَ وَ اتَّى الزكوة (البقرة: ۱۷۸) کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔- لوگوں کی عجیب عادت ہے کہ وہ بڑی باتوں کا ذکر نہیں کرتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے لڑائی کرتے ہیں۔یہ ایک مرض ہے۔میں نے اس مرض کا تماشا دو جگہ دیکھا۔ایک بڑا عہدیدار ہمارے ڈیرے پر آگیا۔اس نے جو شلوار پہنی ہوئی تھی وہ ٹخنوں سے نیچی تھی۔میں وہاں موجود نہیں تھا۔ایک میرے داماد تھے۔انہوں نے چھوٹی سی چھڑی جو ان کے ہاتھ میں تھی اس رئیس کے ٹخنے پر لگا کر کہا ما اَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ (بخاری کتاب اللباس) یہ بہت بری بات ہے۔وہ اس سلوک سے آگ ہی تو ہو گیا۔اس نے کہا نالائق انسان! تجھے تو یہ بھی خبر نہیں کہ مذہب اسلام کو بھی مانتا ہوں یا نہیں۔میرا