خطبات نور — Page 362
362 فَأَتَمَّهُنَّ (البقرة:۳۵)۔ابراہیم علیہ السلام نے نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ہم کو بھی حکم ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (ال عمران: آدم علیہ السلام کو بتایا یہ احکام ہیں اور یہ نواہی۔اوامر کو بجالاؤ اور نواہی سے باز آؤ۔فَازَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا شیطان نے ان کو پھلانے کی کوشش کی۔اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ ببَعْضٍ عَدُوٌّ بعض لوگ آپس میں لڑا دینے کے لئے مختلف راہیں اختیار کرتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ یہ تو آپ ہی تھے جو ایسی باتیں سنتے رہے، ہم سے تو برداشت نہیں ہو سکتی۔کہتے ہیں کہ آپ نے اتنی باتیں سن کر ہم کو بے عزت کر دیا کیونکہ آپ کے دوست تھے۔فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمْت خدا تعالیٰ نے آدم کو کچھ کلمات دعائیں سکھلائیں۔فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِى هُدًى جو لوگ ہدایت پانے کی کوشش کرتے ہیں خدا ان کا معاون ہوتا ہے۔ہمارے آدم سید نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض درختوں سے منع کیا۔مثلاً شراب عرب میں مشرکوں کا مذہب یہود، مجوس ، نصاری کا مذہب۔یہ مذہب خطرہ میں ہیں سوائے صحابہ کے مذہب کے۔مسلمان چار طرح کے نظر آتے ہیں۔(۱) دنیا کی عزت آبرو کے لئے ہی زندہ رہنا چاہتے ہیں جیسا کہ رومی تھے۔(۲) بعض مجوس کی طرح کہ ہم فلاں کی اولاد ہیں۔(۳) بعض رسومات کی طرح مذہب کو مان لیتے ہیں۔(۴) بعض مذہب سے ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔خدا تمہارے اندر وحدت کی روح پھونک دے۔میرا دل دردمند بنایا گیا ہے۔میں تمہاری بہتری اپنی اس آخری عمر میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ورنہ مجھ کو تم سے کوئی ظاہری دنیاوی امید نہیں۔میرا قادر مالک خدا ہے جو ہر طرح سے میری مدد کرتا ہے اور میں خدا کے فضل سے تم میں سے کسی کا محتاج نہیں۔قوم میں وحدت پیدا ہونا سوائے خدا کے فضل کے ہو نہیں سکتا۔لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ (الانفال (۱۳) خدا فضل کرنے کے لئے تیار ہے۔تم اس کا فضل لینے کے لئے تیار ہو جاؤ۔مجھے اس بات کا فکر نہیں کہ اسلام دنیا سے اٹھ جائے گا۔اگر ہے تو یہ کہ بعض گھروں سے۔( بدر جلدے نمبر ۳۸-۱۸ اکتوبر ۱۹۰۸ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑