خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 703

خطبات نور — Page 363

یکم اکتوبر ۱۹۰۸ء 363 خطبه جمعه خطرات نور حضور نے آیت قرآنی ببَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِى أَوْفِ بِعَهِدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونَ (البقرۃ:۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرآن سنانے والوں کو یہودیوں عیسائیوں میں قرآن سنانے کا کم موقع ملتا ہے۔پس جہاں یہ ذکر ہے وہاں مسلمانوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے۔پس مسلمان کو چاہئے کہ جن ناپسند کاموں کی وجہ سے یہود کیا عیسائی عذاب پانیوالے ہوئے ان سے بچے اور جن پسندیدہ کاموں کے سبب انعام پائے وہ کرے۔اس قوم کے مورث اعلیٰ کا نام نہیں لیا بلکہ لقب بیان کیا ہے۔اس سے ان کو شرم اور جوش دلانا مقصود تھا۔عربی زبان میں اسرائیل کے معنے ہیں خدا کا بہادر سپاہی۔اس نام سے یہ غیرت دلائی کہ تم بھی اللہ کے بہادر بنو۔ہماری سرکار سید الابرار سے بڑھ کر اور کون اللہ کا پہلوان ہے۔پس اتنے بڑے انسان کی امت اور اولاد ہو کر ہم نفس و شیطان کے مقابلہ میں بزدلی دکھائیں تو ہم پر افسوس ہے۔مگر افسوس کہ بعض مسلمانوں کی بہادری اس پر رہ گئی ہے کہ جب کسی عورت سے زنا کر لیا تو پھر اپنے ہم جولیوں