خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 352 of 703

خطبات نور — Page 352

352 گی؟ پس تم خود ہی پیشتر اس کے کہ خدا کی طرف سے تم پر خوف جوع اور نقص اموال اور ثمرات کا ابتلا آوے خود اپنے اوپر ان باتوں کو اپنی طرف سے خدا کی خوشنودی کے حصول کے واسطے وارد کر لو تاکہ دوہرا اجر پاؤ اور یہ قدم خدا کے لئے اٹھاؤ تاکہ اس کا بہتر بدلہ خدا سے پاؤ اور یہ مصائب دینی نہیں بلکہ صرف معمولی اور دنیوی ہوں گے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ دشمن برا بھلا کہہ لے گا۔کوئی گندہ گالیوں کا بھرا اشتہار دید ینگ یا خفگی اور ناراضگی کے لجہ میں کوئی بودا سا اعتراض کر دے گا مگر اللہ تعالی فرماتا ہے که لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلا أَذًى (ال عمران ) یہ تکلیف ایک معمولی سی ہو گی کوئی بڑی بھاری تکلیف نہ ہو گی۔دیکھو خدا نے ہم کو بڑی مصیبت سے بچا لیا کہ تفرقہ سے بچالیا۔اگر تم میں تفرقہ ہو جاتا اور موجودہ رنگ میں تم وحدت کی رسی میں پروئے نہ جاتے اور تم تر بتر ہو جاتے تو واقعی بڑی بھاری مصیبت تھی اور خطرناک ابتلا۔مگر یہ خدا کا خاص فضل ہے۔اگر کچھ تھوڑی سی تکلیف ہم کو ہوگی بھی تو میں ہو گی۔اس کا مابعد الموت سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں بلکہ مابعد الموت کو باعث اجر اور رحمت الہی ہوگی۔اور اس تھوڑی سی مشکل پر صبر کرنے اور مستقل رہنے اور کچے دل سے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنے کا بہتر سے بہتر بدلہ دینے کی قدرت اور طاقت رکھنے والا تمہارا خدا موجود ہے۔وہ خاص رحمتیں جو کہ ورثہ انبیاء اور شہداء ہوتی ہیں وہ بھی تمہیں عطا کرے گا اور عام رحمتیں تمہارے شامل حال کرے گا اور آئندہ ہدایت کی راہیں اور ہر مشکل سے نجات پانے کی ہر دکھ سے نکلنے، ہر سکھ اور کامیابی کے حصول کی راہیں تم پر کھول دے گا۔دیکھو میں یہ اپنی طرف سے نہیں کہتا۔بلکہ بلوح خدا ہمیں است۔خدا کے اپنے وعدہ سے ہیں اور خدا اپنے وعدے کا سچا ہے۔آج کا مضمون اور اس کی تحریک محض خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے دل میں ڈالی گئی ہے ورنہ میں نے نہ اس کا ارادہ کیا تھا اور نہ اس کے واسطے کوئی تیاری کی تھی۔پس یہ خدا کی بات ہے میں تم کو پہنچاتا ہوں در تاکید کرتا ہوں کہ ایسے اوقات میں تم کثرت دعا استغفار، درود لاحول الحمد شریف کا ورد کیا کرو۔میں بھی دعا کرتا ہوں۔اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيْعًا مَّا الَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبهمْ (الانفال:۲۴)۔دیکھو دو کو ایک کرنا سخت سے سخت مشکل کام ہے۔تو پھر ہزاروں کا ایک راہ پر جمع کرنا اور ان میں وحدت اور الفت کا پیدا کر دینا خدا کے فضل کے سوا کہاں ممکن ہے؟ دیکھو تم خدا کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے ہو۔اس نعمت کی قدر کرو اور اس کی حقیقت کو پہچانو اور اخلاص اور ثبات کو اپنا شیوہ بناؤ۔