خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 335 of 703

خطبات نور — Page 335

335 پھر وہ گاہ گاہ میرے حوالہ کر کے چلا بھی جاتا تھا اور میرا اعتبار کرتا تھا، میں اس کا اعتبار نہ کرتا اور نہ ہی صندوقچہ اسے کھول کر بتاتا۔آخر ہوتے ہوتے مجھے اس کا صندوقچہ پسند آیا۔میں نے موقع پا کر اپنا تو پڑا رہنے دیا اور اس کا صند و قیچہ لے بھاگا جو میرے خیال میں میرے والے بکس سے عمدہ اور عمدہ مال والا تھا۔اور یہ وہی صندوقچہ ہے جو میں نے اس شخص کا حاصل کیا اور اپنا اس کے واسطے چھوڑا۔یہ سارا واقعہ سننے کے بعد اس رئیس نے اس سے کہا کہ اب وہ ہزار روپیہ تو ہم تمہیں دے چکے اور وہ تمہاری محنت کا پھل تھا جو تمہیں مل گیا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ معمولی جھاڑ فانوس کے ٹکڑے ہیں چاہو ان کو رکھو اور چاہو پھینک دو یہ کسی کام کے نہیں ہیں۔اور روشنی کے داروغہ کو بلوا کر اسے ویسے ہزاروں ٹکڑے بتا دیے۔یہ دیکھ کر اس بے چارے کی آنکھیں کھلیں اور اپنے کئے پر پچھتایا۔رئیس نے کہا کہ خدا رحیم کریم ہے۔اس نے تمہاری محنت بالکل ضائع بھی نہ کی اور سزا بھی دے دی کہ تم نے چالاکی سے عمدہ مال حاصل کرنا چاہا تھا۔الٹا اس حرص سے ایک گناہ بھی کیا اور اصل مال بھی برباد کیا۔اس کا جو حال ہوا ہو گا اس کا ہمیں علم نہیں۔غرض انسان چاہتا ہے کہ میں چالا کی اور دھوکہ سے کامیاب ہو جاؤں مگر خدا اس کو عین اسی رنگ میں سزا دیتا ہے اور نا کام کرتا ہے جس رنگ میں خدا کو ناراض کر کے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔یہ قصہ کہانی نہیں بلکہ ایک واقعہ کا بیان کیا گیا اور عقل مند اس سے عبرت پکڑتے ہیں۔میں نے یہ ایک بات کہی ہے۔تم اس سے اصل حقیقت کی طرف چلے جاؤ۔اللهُ الصَّمَدُ حقیقت میں وہی محتاج الیہ ہے۔لَمْ يَلِدْ اس کا کوئی بچہ نہیں کیونکہ وہ صمد ہے اور بچہ لینے کے واسطے بیوی کی حاجت ہوتی ہے۔پس وہ لم یلد ہے کیونکہ وہ صمد ہے۔خدا کا ولد ماننے میں نہ تو خدا کی صفت صمد ہی رہتی ہے اور نہ صفت احد ہی قائم رہ سکتی ہے۔کیونکہ بچے کے واسطے بیوی کی حاجت لازمی ہے اور پھر بیوی اسی جنس اور کفو کی چاہئے تو احد بھی نہ رہا۔غرض یہ بالکل سچ ہے کہ لَمْ يَلِدُ ہے وہ ذات پاک۔وَلَمْ يُولَدُ اور وہ خود بھی کسی کا بیٹا نہیں۔کیونکہ اس میں بھی والدین کی احتیاج لازمی اور کفو ضروری ہے۔پس وہ احد ہے۔صمد ہے۔لَمْ يَلِدْ ہے اور لَمْ يُولَدْ اور لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ ذات ہے۔دیکھو میں پھر کہتا ہوں اور درد دل سے نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ صمد ہے۔اس کو اپنا محتاج الیہ بنائے رکھو۔کھانے پینے ، پہننے ، عزت اکرام ، صحت ، عمر ، علم ، بیوی، بچے اور ان کی تمام ضروریات کے واسطے