خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 703

خطبات نور — Page 25

25 کوثر مکان کے لحاظ سے عطا فرمائی۔کوئی آدمی نہیں ہے جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکام الہی میں اتباع رسالت پناہی کی ضرورت نہیں۔کوئی صوفی کوئی مست قلندر بالغ مرد بالغہ عورت کوئی ہو اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔اب کوئی وہ خضر نہیں ہو سکتا جو لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (الكيف:۲۸) بول اٹھے۔یہ وہ موسیٰ " ہے جس سے کوئی الگ نہیں ہو سکتا۔کوئی آدمی مقرب ہو نہیں سکتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع نہ کرے۔کتاب میں وہ کچی کو ثر عنایت کی کہ فِيْهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البينه:) کل دنیا کی صداقتیں اور مضبوط کتابیں سب کی سب قرآن مجید میں موجود ہیں۔ترقی مدارج میں وہ کو ثر کہ جبکہ یہ سچی بات ہے الدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ (ترمذی۔کتاب العلم) پھر دنیا بھر کے نیک اعمال پر نگاہ کرو جبکہ ان کے دال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی ، جزائے نیک آپ کے اعمال میں شامل ہو کر کیسی ترقی مدارج کا موجب ہو رہی ہے۔اعمال میں دیکھو! اتباع ، فتوحات عادات علوم اخلاق میں کس کس قسم کی کوثریں عطا فرمائیں ہیں۔استحکام و حفاظت مذہب کے لئے دیکھو۔جس قدر مذاہب دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ان کی حفاظت کا ذمہ وار خود ان لوگوں کو بنایا۔مگر قرآن کریم کی پاک تعلیم کے لئے فرمایا إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: ) یہ کیا کوثر ہے؟ اللہ تعالیٰ اس دین کی حمایت و حفاظت اور نصرت کے لئے تائیدیں فرماتا اور مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے جو اپنے کمالات اور تعلقات الہیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں۔اس کو دیکھ کر پتہ لگ سکتا ہے کہ کیونکر بندہ خدا کو اپنا بنا لیتا ہے۔اس ہستی کو دیکھو، زبان اور اس کے حرکات کو دیکھو۔جب خدا بنانے پر آتا ہے تو اسی عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا ہے اور ایک اجڑی بستی کو اس سے آباد کرتا ہے۔کیا تعجب انگیز نظارہ ہے۔بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکثر باز مدبروں کو محروم کر دیتا ہے حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں اور علم و واقفیت کے ذرائع وسیع ہوتے ہیں۔مثلا دیکھو! کس بستی کو برگزیدہ کیا جہاں نہ ترقی کے اسباب نہ معلومات کی توسیع کے وسائل نہ علمی چر چے نہ مذہبی تذکرے نہ کوئی دار العلوم نہ کتب خانہ صرف خدائی ہاتھ ہے جس نے تربیت کی اور اپنی تربیت کا عظیم الشان نشان دکھایا۔غور کرو کس طرح یہ بتلاتا ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا نے کیا کوثر عطا فرمایا۔لیکن غافل انسان نہیں سوچتا۔افسوس تو یہ ہے کہ جیسے اور لوگوں نے غفلت اور سستی کی ویسے ہی غفلت کا شکار مسلمان بھی ہوئے۔آہ ! اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے اور خود بھی ان سے حصہ لینے کے آرزومند ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی کوثر دیتا۔