خطبات نور — Page 327
327 میری عبادت کو قبول فرمالے۔ہم تیرے عاجز بندے ہیں۔ہم تیری اس کبریائی ، عظمت اور جلال کو جو تیری ذات پاک کے شایاں اور مناسب حال ہے کہاں جان سکتے ہیں۔اس واسطے ان کمیوں پر چشم پوشی فرما اور عفو کر۔گزشتہ غلطیوں کو معاف فرما اور آئندہ کے واسطے توفیق عطا فرما کہ ہم تیری عبادت بطریق احسن اور ابلغ کرنے کے لائق ہوں۔نماز کی کمی اور نقائص کی تلافی کے واسطے ماثورہ اور اد کے علاوہ ایک ایک مقررہ تعداد رکعات سنن کی بھی ضروری ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے کا حکم دیا ہے۔فرائض کی تکمیل کے واسطے سنن کا پڑھنا نہایت ہی ضروری ہے۔جو لوگ سنتوں کے ادا کرنے میں سستی یا کاہلی کرتے ہیں ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔میں ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہتا ہوں کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عمل سے کہ آپ نماز فرائض کے بعد فوراً اندر تشریف لے جاتے ہیں کوئی ٹھو کر کھائے اور خود بھی فرائض کے بعد فوراً مسجد سے باہر بھاگنے کی کوشش کرے اور ادعیہ ماثورہ اور سنن کی پرواہ نہ کرے۔یاد رکھو کہ حضرت القدس ان سب باتوں کے پورے پابند ہیں اور اکثر گھر میں نوافل میں بھی لگے رہتے ہیں۔بلکہ بعض اوقات آپ سنن مسجد میں بھی ادا کر لیتے ہیں۔غالبا یہی خیال آجاتا ہو گا کہ کوئی ٹھو کر نہ کھائے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ نماز سے گھر بابرکت ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میرا خود بھی اسی پر عمل ہے۔اکثر سنن اور نوافل گھر میں ادا کرتا ہوں مگر اسی خیال سے کہ کسی بیمار دل کو ٹھوکر نہ لگے بعض اوقات مسجد میں بھی ادا کر لیتا ہوں اور خدا سے یہ دعا عرض کر دیتا ہوں کہ گھر میں تو ہی برکت دے دیجیو۔رسول اکرم کا عمل بھی اسی طرح پر ہے۔شام کے نوافل کے متعلق آنحضرت کا مسجد میں ادا کرنے کا بھی ایک اثر موجود ہے۔غرض یہ ہے کہ سنن کی پابندی نہایت ضروری ہے خواہ گھر میں ہوں اور خواہ مسجد میں۔قرآن شریف کی بعض چھوٹی چھوٹی سورتیں جن میں چاروں قل بھی ہیں نماز میں بھی اور نماز کے بعد کے اور اد ماثورہ میں بھی داخل ہیں۔لہذا ان کے متعلق بھی کسی قدر بیان کر دینا ضروری ہے۔مسلمان انسان میں غیرت اور حمیت ہونی چاہئے اور ہر حالت میں لازمی ہے کہ ایماندار انسان بے غیرت ہونے کی حد تک ذلیل نہ ہو جاوے۔دیکھو حضرت نبی کریم کی ابتدائی تیرہ سالہ مکہ کی زندگی کیسی مشکلات اور مصائب کی زندگی ہے مگر بایں کہ آپ بالکل تنہا اور کمزور ہیں خدا تعالیٰ آپ کی زبان سے اہل مکہ کے بڑے بڑے اکابر قریش اور سرداران قوم کو جو اپنے برابر کسی کو دنیا میں سمجھتے ہی نہ تھے یوں خطاب کراتا