خطبات نور — Page 321
321 پاوے گا۔جو بوئے گا سو کاٹے گا۔ایسا انسان جو کچھ کرتا ہی نہیں، روپیہ کمانے اور روپیہ آنے اور امیر بنے کی جو راہیں خدا نے بنائی ہیں ان کا علم ہی حاصل نہیں کرتا اور ان کی پرواہ ہی نہیں کرتا تو اس کے پاس روپیہ اور مال و دولت کہاں سے آوے گا۔ظاہر ہے کہ وہ مفلس اور محتاج ہو گا اور افلاس اور احتیاج کا نتیجہ اسے بھگتنا پڑے گا جو کہ لازماً بخل اور جبن ہوتا ہے۔یاد رکھو کہ ہم اور حزن کا نتیجہ بجز اور کسل ہوتا ہے۔اور عجز اور کسل کا نتیجہ افلاس اور احتیاج کی معرفت بخل اور جین ہوا کرتا ہے۔پس کیسی عجیب راہ مسلمانوں کو بتائی گئی ہے کہ اللہ کے حضور دعا کیا کریں اور قبولیت دعا اور جذب فیضان کے واسطے چونکہ انسان کو خود بھی حتی المقدور کوشش اور سعی کرنا اور خدا کی بتائی ہوئی راہوں پر کاربند ہونالازمی ہے لہذا خود بھی ان رزائل سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرے اور پھر نتیجہ کے واسطے خدا کے حضور التجا کرے۔بخل سے مراد مالی بخل ، خیالات پاکیزہ کے اظہار کا بخل، علم و عمل کا بخل، غرض کسی کو نفع نہ پہنچانا خواہ وہ کسی ہی رنگ میں ہو بخل کہلاتا ہے۔جبن۔بزدلی جو کہ انسان میں فطرتا کسی نہ کسی قسم کی کمزوری یا نقص ہونے کی وجہ سے پائی جاتی ہے۔آج اس زمانہ میں علاوہ مالی بخل اور جین کے اظہار خیالات کے مادہ اور طاقت کا نہ ہونا، علم جو کہ ایک طاقت اور جرأت کا بڑا بھاری باعث اور موجب ہوتا ہے اس کا نہ ہونا مؤثر پیرایوں میں اپنے عندیہ کو مدلل اور مبرہن نہ کر سکنا، قوت بیانی کا نہ ہونا، ان سب کا نام ہے بخل۔اور پھر ان کے عدم کی وجہ سے انسانی حالت جو کہ فطرتا اس کمی اور کمزوری کی وجہ سے اپنے اندر ہی اندر ایک قسم کا ضعف محسوس کرتی ہے اور مخالف خیالات کے لوگوں سے مقابلہ کرنے سے پر ہیز کرتی ہے، اس حالت کا نام جبن یعنی بزدلی ہے۔ورنہ اب کوئی تیر و تلوار کی لڑائی تو ہے نہیں۔اور ان جنگوں کے واسطے بھی جس جرات اور بہادری اور دلیری کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی انہی صفات کے ماتحت ہوتی ہے۔وہاں بھی علم کی ضرورت ہے جو کہ ایک طاقت ہے۔غرض ہم نے تو بارہا اس نقص کے رفع کرنے کے واسطے کوششیں کی ہیں۔بلکہ انجمن تشحید الاذہان میں اس قسم کے طلباء کے واسطے انعامات بھی مقرر کیے ہیں تاکہ ہمارے نوجوانوں کو بولنے کی عادت ہو 21