خطبات نور — Page 316
۱۳ اپریل ۱۹۰۸ء مسجد اقصی قادیان 316 خطبہ جمعہ أشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ۔اللَّهُمَّ اِنّى اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمَ وَالْحُزْنِ وَ اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْحُبْنِ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَ قَهْرِ الرِّجَالِ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ اغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ (ترمذى كتاب الدعوات)- متواتر کئی جمعوں سے میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ انسان کو نماز کس طرح سے سنوار کر پڑھنی چاہئے۔چنانچہ آج بھی نماز کے آخر میں جو دعا ہے اس کا ذکر کرتا ہوں۔حدیث شریف سے ثابت ہے کہ درود شریف کے بعد یہ دعا بھی نماز میں پڑھی جایا کرے۔نماز کے پہلے مراتب اذان سے لے کر اس دعا سے پہلے تک پیشتر کے جمعوں میں بیان کیے جاچکے ہیں۔بعض ائمہ ایسے بھی گزرے ہیں کہ جنہوں نے اس دعا کا پڑھا جانا مستحب یا مسنون کے درجہ سے بڑھ کر واجب قرار دیا ہے اور اسی پر