خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 315 of 703

خطبات نور — Page 315

315 آیات اور فقرے عربی زبان کے لازمی طور سے رکھے گئے ہیں۔تو ان باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم کے دل میں جہاں وحدت کی روح پھونکنے کے واسطے اور ذرائع کا استعمال کرنا تھا وہاں منجملہ ان ذرائع کے تعلیم عربی بھی تھی۔بہت سے اختلاف صرف عربی زبان کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا۔ہوتے ہیں۔غرض وحدت قومی کے پیدا کرنے کا ایک بڑا بھاری ذریعہ زبان عربی سے واقفیت حاصل کرنا بھی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ اگر انسان صرف اتنے حصہ زبان کے الفاظ کو ہی اچھی طرح سمجھ لے جو مسلمانوں میں روز مرہ کے بول چال میں مروج ہیں تو بھی ایک حصہ قرآن شریف کا جو ذکر کے متعلق ہے اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔مگر خدا جانے کیا وجہ ہے کہ کیوں لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے؟ انگریزی جیسی دور دراز ملک کی زبان اور پشتو جیسی جو شیلی زبان پنجابی جیسی مشکل اور کشمیری جیسی نرم زبان سے کہہ لیتے ہیں مگر نہیں سیکھنے کی کوشش کرتے اور نہیں دلچسپی پیدا کرتے تو کس زبان سے؟ قرآن اور رسول پاک کی پیاری اور دلربا زبان سے۔اب چونکہ نماز ظہر کا وقت ہے اور نیز بارہا ایسے مضامین سننے کا آپ لوگوں کو موقع ملتا رہا ہے اس واسطے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔نکاح کی اجازت بابو غلام حسن صاحب نے جو کہ لڑکی کے والد اور ولی ہیں مجھے بذریعہ ایک خط کے دی ہے جس میں انہوں نے لڑکی کی طرف سے بھی قبولیت بذریعہ تحریر بھیجی ہے۔اس طرح کی تحریر سے ان کے اس شوق کا اظہار ہوتا ہے جو ان کو اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے واسطے ہے۔چوہدری حاکم علی صاحب بھی اور بابو غلام حسن صاحب بھی، جہاں تک میرا علم ہے، دونوں حضرت اقدس کے بہت بڑے مخلص اور خادم ہیں۔مبارک ہیں وہ نکاح جو حضرت مسیح کے حضور پڑھے جاویں اور جن کی بہتری اور بابرکت ہونے کے واسطے مسیح موعود کے ہاتھ خدا کے حضور میں التجا کے واسطے پھیلیں۔ایجاب و قبول اور دعا کی گئی۔ا حکم جلد ۱۲ نمبر ۲۳----۳۰ / مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۲)