خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 308 of 703

خطبات نور — Page 308

308 ہمیشہ آنکھ کے سامنے رکھو اور پھر دیکھو تو سہی کیا گناہ ہونا ممکن ہے؟ جب انسان ذرا سی بے عزتی اور معدودے چند آدمیوں میں ہتک کے باعث ہونے والے کاموں سے پر ہیز کرتا ہے اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں میری ہتک نہ ہو جاوے تو پھر جس کو اس نظارے کا ایمان اور یقین ہو جس کا نام یوم الآخرۃ ہے تو بھلا اس سے بدی کہاں سرزد ہو سکتی ہے ؟ پس یوم الآخرۃ پر ایمان لانا بھی بدیوں سے بچاتا ہے۔تیسرا بڑا ذریعہ نیکی کے حصول و توفیق اور بدی سے بچنے کا ایمان بالملائکہ ہے۔ہر نیکی کی تحریک ایک ملک کی طرف سے ہوتی ہے۔اس تحریک کو مان لینے سے اس ملک کو اس ماننے والے سے انس اور محبت پیدا ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تعلق گہرا ہو جاتا ہے اور اس طرح سے ملائکہ کے نزول تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔پس چاہئے کہ انسان کے دل میں جب کوئی نیکی کی تحریک پیدا ہو تو فوراً اس کو مان لے اور اس کے مطابق عمل درآمد کرے اور اس پر اچھی طرح سے کاربند ہو جاوے۔ورنہ اگر اس موقع کو ہاتھ سے دے دے گا تو پچھتانا بے سود ہو گا۔بعض لوگ پچھتاتے ہیں کہ فلاں وقت اور موقع کیسا اچھا تھا۔یہ کام ہم نے کیوں اس وقت نہ کر لیا۔پس نیکی کی تحریک کا موقع فرصت اور وقت مناسب اور نیک فال سمجھ کر فوراً مان لینا چاہئے۔اس طرح سے نیکی کی توفیق بڑھتی جاتی ہے اور انسان بدیوں سے دور ہوتا جاتا ہے۔پھر اس بات کا اعتقاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل رضامندی اور خوشنودی کے حصول کا ذریعہ صرف کتب الہی اور انبیاء ہیں۔خدا کے مقدس رسولوں کی پاک تعلیم اور کتب الہیہ کی کچی پیروی کے سوا خدا کی رضامندی ممکن ہی نہیں۔خدا کی پہچان اور اس کی ذات، صفات اور اسماء کا پتہ خدا کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے بغیر لگ ہی نہیں سکتا۔خدا کے اوامر و نواہی اور عبادت و فرمانبرداری کے احکام معلوم کرنے کا ذریعہ کتب الہیہ ہی ہیں جو خدا کے پاک رسولوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں۔غرض انسان کے عقائد درست ہوں تو فروعات خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔انسان کو لازم ہے کہ اصل الاصول پر توجہ کرے۔فروعات تو ضمنی امور ہیں۔اور اصول کے ماتحت غور کر کے دیکھو کہ جس انجمن ، جس کمیٹی اور سوسائٹی نے صرف فروعات میں کوشش کی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔دیکھو اگر جڑ ہی خشک ہو تو پتوں کو پانی میں تر کرنے سے کیا فائدہ۔جڑ سیراب ہونی چاہئے درخت مع اپنے تمام شاخوں اور پتوں کے خود بخود سرسبز و شادات ہو جاوے گا اور ہرا بھرا نظر آنے لگے گا۔ورنہ اگر جڑ ہی قائم نہیں تو پتوں اور شاخوں کو خواہ پانی میں ہی کیوں نہ رکھو وہ ہرگز ہرگز ہری بھری نہ ہوں گی بلکہ دن بدن خشک ہوتی جاویں گی۔