خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 703

خطبات نور — Page 290

290 اس وقت جو مجمع ہے میں اس کی خوشی کا اظہار کروں تو بعض نادان بدظنی کریں گے مگر بد ظنیاں تو ہوتی ہی ہیں مجھے ان کی پروا نہیں اور میں کسی رنگ میں مخلوق کی پروا کرنا اپنے ایمان کے خلاف یقین کرتا ہوں۔یہ امرا خلاص اور اسلام کے خلاف ہے۔پس میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ اس تقریب کی وجہ سے مجھے بہت ہی خوشی ہے اور کئی رنگوں میں خوشی ہے۔نواب محمد علی خاں میرے دوست ہیں۔یہ نہ سمجھو کہ اس وجہ سے دوست ہیں کہ وہ خاصاحب یا نواب صاحب یا رئیس ہیں۔میں نے کسی دنیوی غرض کے لئے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفہ کے لئے کبھی ان سے دوستی نہیں کی۔وہ خوب جانتے ہیں اور موجود ہیں۔مجھے ان کے ساتھ جس قدر محبت ہے محض خدا کے لئے ہے۔کبھی بھی نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر ان کی محبت میں کوئی غرض نہیں آئی۔ایک زمانہ ہوا میں نے ان سے معاہدہ کیا تھا کہ آپ کے دکھ کو دکھ اور سکھ کو سکھ سمجھوں گا اور اب تک کوئی غرض اس معاہدہ کے متعلق میرے واہمہ میں نہیں گزری۔ان کا یہ رشتہ کا تعلق حضرت امام علیہ السلام سے ہوتا ہے۔یہ سعادت اور فخر ان کی خوش قسمتی اور بیدار بختی کا موجب ہے۔ان کے ایک بزرگ تھے شیخ صدر جہاں (علیہ الرحمۃ ) ایک دنیادار نے ان کو نیک سمجھ کر اپنی لڑکی دی تھی۔مگر یہ خدا تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے اور اس کی نکتہ نوازی ہے کہ آج محمد علی خاں کو سلطان دین نے اپنی لڑکی دی ہے۔یہ اس بزرگ مورث سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔یہ میرا علم میرا دین اور ایمان بتاتا ہے کہ حضرت صدرجہاں سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔میں نہیں جانتا کہ میری قوم کیا ہے؟ مگر میرا علم بتاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد ہوں۔حضرت عمر میرے جد امجد بڑے مہروں کو پسند نہیں کرتے تھے۔مگر ایک مرتبہ جب ایک عورت نے کہا۔اَلْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ (ال عمران (۱۵) بھی مہر ہو۔خدا نہیں روکتا تو عمر کون روکنے والا ہے۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ عمر سے تو مدینہ کی عورتیں بھی افقہ ہیں۔پس ایک فاروقی کے منہ سے اس وقت ۵۶ ہزار کے مہر کو خفیف سمجھنا ضرور قابل غور ہے۔کیا میرے جیسے آدمی کا مراتنا باندھا جا سکتا ہے جس نے آیا تو کھالیا، کپڑا مل گیا تو پہن لیا۔اس کا مہر تو اسی حیثیت کا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ایک صحابی کو کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ اچھا! لوہے کی انگوٹھی ہی لے آ۔جب اس نے اس سے بھی انکار کیا اور کہا کہ صرف تہ بند ہے تو اس کا م بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرانِ (بخاری کتاب النکاح باب السلطان ولی) فرمایا۔فقہاء نے اس پر اختلاف کیا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تیری قرآن دانی کے بدلے اور بعض کہتے ہیں کہ قرآن کی