خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 289 of 703

خطبات نور — Page 289

289 دکھائے۔ان ساری خوشیوں کے حصول کی جڑ تقویٰ ہے اور تقویٰ کے حصول کے لئے یہ گر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رقیب ہونے پر ایمان ہو۔چنانچہ فرمایا۔اِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء:۴) جب تم یہ یاد رکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حال کا نگران ہے تو ہر قسم کی بے حیائی اور بدکاری کی راہ سے جو تقویٰ سے دور پھینک دیتی ہے بچو گے۔دوسری آیت یہ ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب)۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ تقویٰ کی ہدایت فرماتا ہے اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے کہ پکی باتیں کہو۔انسان کی زبان بھی ایک عجیب چیز ہے جو گا ہے مومن اور گا ہے کافر بنا دیتی ہے۔معتبر بھی بنا دیتی ہے اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے۔اس لئے حکم ہوتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو خصوصاً نکاحوں کے معاملہ میں۔اس معاملہ میں پوری سوچ بچار اور استخاروں سے کام لو اور پھر مضبوطی سے اسے عمل میں لاؤ۔جب تم پوری کوشش کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ (الاحزاب (۷۲) تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جائیں گے۔تمہاری غلطی کو جناب الہی معاف کر دیں گے۔کیونکہ جب تقویٰ ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمہ وار اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے۔اور اگر نافرمانی ہو تو وہ معاف کر دیتا ہے۔ان معاملات نکاح میں عجیب در عجیب کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور دھوکا دیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ہی کا فضل ہو تو کچھ آرام ملتا ہے۔ورنہ چالاکی سے کام کیا ہو اور دنیا میں بہشت نہ ہو۔لہ پھر فرمایا ہے۔بہت لوگ پاس ہونے کے لئے تڑپتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ اصل بات تو یہ ہے کہ جو اللہ اور رسول کا مطیع ہوتا ہے وہ ہی حقیقی با مراد ہوتا اور یہی حقیقی پاس ہے۔پھر اس معاملہ میں تیسری آیت یہ ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر:19)۔اس تیسری آیت میں بھی تقویٰ کی تاکید ہے کہ تقویٰ اللہ اختیار کرو اور ہر ایک جی کو چاہئے کہ بڑی توجہ سے دیکھ لے کہ کل کے لئے کیا کیا؟ جو کام ہم کرتے ہیں ان کے نتائج ہماری مقدرت سے باہر چلے جاتے ہیں۔اس لئے جو کام اللہ کے لئے نہ ہو گا تو وہ سخت نقصان کا باعث ہو گا۔لیکن جو اللہ کے لئے ہے تو وہ ہمہ قدرت اور غیب دان خدا جو ہر قسم کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے اس کو مفید اور مثمر ثمراتِ حسنہ بنا دیتا ہے۔یہ سب باتیں تقویٰ سے حاصل ہوتی ہیں۔ل نقل مطابق اصل 19۔