خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 284 of 703

خطبات نور — Page 284

284 مصیبت میں یار، غمگسار اور ایسے احباب کی ضرورت ہے جو اس میں شریک ہو کر اسے کم کریں۔ان صورتوں میں اس قسم کے تعلقات اور روابط مفید ہیں۔ان ساری باتوں پر جب ہم غور کرتے ہیں تو پھر بے اختیار نَحْمَدُہ کہتے ہیں۔اس حمد کے بھی مختلف رنگ ہیں۔یہاں ہی دیکھو کہ کچھ لڑکے ہیں۔وہ صرف اسی لئے جمع ہیں کہ کچھ چھوہارے ملیں گے۔ان کا اَلْحَمْدُ اپنے ہی رنگ کا ہے۔یہ بھی ایک مرتبہ ہے اور عوام اور بچوں کا یہیں تک علم ہے۔ایک وہ ہیں جنہوں نے الْحَمْدُ ہی سے نبوتوں کو ثابت کیا اور مذاہب باطلہ کا رد کیا ہے۔تین مرتبہ میں نے حضرت صاحب کی تفسیر الْحَمْدُ پڑھی ہے۔ایک براہین میں پھر کرامات میں اور پھر اعجاز المسیح میں۔اسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ الْحَمْدُ کا اعلیٰ مقام وہ ہے جہاں یہ پہنچے ہیں۔یہ بھی الحمد کے ایک معنے ہیں اور ایک متوسط لوگ ہیں۔میں بھی ان میں ہی ہوں۔یہ اپنے رنگ میں اَلْحَمْدُ کے معنے سمجھتے ہیں اور ان کی حمد اپنے رنگ کی ہے۔یہاں ناطے رشتے ہوتے ہیں اور ان تقریبوں پر مجھے حضرت امام" کے حکم سے موقع ملتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کروں۔اس لئے میں اس فضل پر ہی حمد الہی کرتا ہوں۔میں یوں تو عجیب عجیب رنگوں میں حمد کرتا ہوں مگر اس وقت کے حسب حال یہی وجہ ہے جو میں نے بیان کی ہے اور یہ معمولی فضل نہیں ہے مگر یہ توفیق اور فضل اللہ ہی کی مدد سے ملتا ہے۔اس لئے نَسْتَعِينُه ہم اس کی مدد چاہتے ہیں۔خدا تعالی کی مدد ہی شامل حال ہو تو بات بنتی ہے ورنہ واعظ میں ریاء سمعت دنیا طلبی پیدا ہو سکتی ہے۔اور وہ خدا تعالٰی کو چھوڑ کر عاجز مخلوق کو اپنا معبود اور محبوب بنا لیتا ہے جب اس کے دل میں مخلوق سے اپنے کلام اور وعظ کی داد کی خواہش پیدا ہو۔واعظ کے لئے یہ امر سخت مہلک ہے۔پس میں خدا کی حمد کرتا ہوں اور اس کے فضل سے حمد کرتا ہوں کہ اس نے محض اپنے فضل ، ہاں اپنے فضل ہی سے مجھے مخلوق سے مستغنی کر دیا ہے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی مدد کب ملتی ہے؟ یہ مدد اس وقت ملتی ہے جب انسان میں بدی نہ ہو۔بد کار ایک وقت نیکی بھی کر سکتا ہے مگر نیکی اور بدی کی میزان اور ہر ایک کی کثرت اور قلت اسے نیک یا بد ٹھہراتی ہے۔نیکیاں بہت ہوں تو نیک اور بدیاں زیادہ ہوں تو بد کار کہلاتا ہے۔بدی چونکہ بدی ہے اور درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اس لئے جب حمد الہی کی توفیق اور جوش پیدا نہ ہویا اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت نہ ملے تو ایسی حالت میں ڈرنا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ بدیاں بڑھ گئی ہیں۔اس کا علاج کرنا چاہئے اور وہ علاج کیا ہے؟ اِستغفار۔اس لئے فرمایا نَسْتَغْفِرُهُ۔اللہ تعالٰی کے وسیع