خطبات نور — Page 278
278 قرآن کی انتہا دعا پر ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (الناس :) - اول البشر آدم نے بھی دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا (الاعراف: ۲۴) ہمارے نبی کا آخری کلام بھی دعا ہی ہے اللَّهُمَّ الْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأعلى (بخاری کتاب المراضی باب مرض النبی و وفاته)۔جو لوگ دعا کے ہتھیار سے کام نہیں لیتے وہ بد قسمت ہیں۔امام کی معرفت سے جو لوگ محروم ہیں وہ بھی دراصل دعاؤں سے بے خبر ہیں۔آمَنُ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل: ۳) سے پتہ ملتا ہے کہ اگر یہ لوگ اضطراب سے، تڑپ سے حق طلبی کی نیت سے، تقویٰ کے ساتھ دعائیں کرتے کہ الہی! اس زمانہ میں کون شخص تیرا مامور ہے تو میں یقین نہیں کر سکتا کہ انہیں خدا تعالٰی ضائع کرتا۔میں کبھی کسی مسئلہ اختلافی سے نہیں گھبرایا کہ میرے پاس دعا کا ہتھیار موجود ہے اور وہ دعا یہ ہے۔اَللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (الزمر:۳۷) اور حدیث اهْدِنِي لَمَّا اخْتَلَفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (ترمذی کتاب الادب)۔سچا تقویٰ حاصل کرنے کے لئے بھی دعا ہی ایک عمدہ راہ ہے۔پھر قرآن کریم کا مطالعہ۔اس میں متقیوں کی صفات اور راستبازوں کی صفات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق بخشے۔فہم و فراست بخشے۔یاد رکھو کہ پاک اخلاق ایک نعمت ہے۔اس سے انسان کا اپنا دل خوش رہتا ہے۔بی بی نیک ملے تو سارے گھر میں خوشی رہتی ہے۔اولاد نیک ہو تو پیچھے بھی آرام رہتا ہے۔یہ سب دعا سے ملتا ہے۔قوم میں اخلاص و محبت سے پیش آؤ۔حسن ظن سے کام لو۔امِرُ بِالْمَعْرُوفِ اور نَاهِي عَنِ الْمُنْكَرِ ہو۔دعا کرو کہ خدا راستبازوں کے ساتھ زندہ رکھے۔انہی کے ساتھ ہمارا حشر کرے۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو اپنا انعام کیا، مسیح موعود اس کی اتباع فرمانبرداری اس کی موجودگی نعمت سمجھو۔بہت سی مخلوق آئے گی جو پچھتائے گی کہ ہم کیوں اس کے زمانے میں اس کے فرمانبردار نہ ہوئے۔اخلاص و محبت سے زندگی بسر کرو اور دعا کرتے رہو۔یہ دعا کا ہتھیار دنیا کی تمام قوموں سے چھین لیا گیا ہے۔یہ ہتھیار تمہارے قبضے میں ہے، اس سے مسلح ہو جاؤ۔دوسرے سب اس سے محروم ہیں۔دنیا چند روزہ جگہ ہے۔ہمیشہ ساتھ نہیں رہے گی۔دنیا کی صحت دنیا کی محبت دنیا کی عزت اس کے دشمن اور دوست سب یہیں رہ جائیں گے۔صرف اللہ کی رضامندی اور عمل صالح تمہارے ساتھ جائیں گے۔قربانی کے لئے نبی کریم کو وہ نر بکرے پسند تھے، جن کے منہ اور پاؤں میں سیاہی ہو۔والا خصی کا ذبح بھی شرعاً جائز ہے۔جس کا پیدائشی سینگ نہ ہو وہ بھی جائز ہے۔ہاں جس کا سینگ آدھے سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو یا کان چیرا ہوا ہو وہ ممنوع ہے۔علماء کا اختلاف ہے کہ دو برس سے کم کا بکرا اور ایک برس سے