خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 703

خطبات نور — Page 274

274 مظفر و منصور فتح مند ہونا ہو تو بھی متقی بنو۔یہ دن بھی ایک عظیم الشان متقی کی یادگار ہیں۔اس کا نام ابراہیم تھا۔اس کے پاس بہت سے مویشی تھے، بہت سے غلام تھے اور بڑھاپے کا ایک ہی بیٹا تھا فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يُبْنَى إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرى (الصافات:۱۰۳) سو برس کے قریب کا بڑھا ایک ہی بیٹا اپنی ساری عزت، ناموری، مال ، جاہ و جلال اور امیدیں اسی کے ساتھ وابستہ۔دیکھو متقی کا کیا کام ہے۔اس اچھے چلتے پھرتے جوان لڑکے سے کہا۔میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کروں۔بیٹا بھی کیسا فرمانبردار بیٹا ہے۔قَالَ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّبِرِينَ (الصافات:۰۳) اباجی! وہ کام ضرور کرو جس کا حکم جناب الہی سے ہوا۔میں ، مفضلہ تعالیٰ صبر کے ساتھ اسے برداشت کروں گا۔یہ ہے تقویٰ کی حقیقت یہ ہے قربانی۔قربانی بھی کیسی قربانی کہ اس ایک ہی قربانی میں سب ناموں امیدوں ناموریوں کی قربانی آگئی۔جو اللہ کے لئے انشراح صدر سے ایسی قربانیاں کرتے ہیں اللہ بھی ان کے اجر کو ضایع نہیں کرتا۔اس کے بدلے ابراہیم کو اتنی اولاد دی گئی کہ مردم شماریاں ہوتی ہیں مگر پھر بھی ابراہیم کی اولاد صحیح تعداد کی دریافت سے مستثنیٰ ہے۔کیا کیا برکتیں اس مسلم پر ہوئیں۔کیا کیا انعام الہی اس پر ہوئے کہ گننے میں نہیں آسکتے۔ہماری سرکار خاتم الانبیاء سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی ابراہیم کی اولاد سے ہوئے۔پھر اس کے دین کی حفاظت کے لئے خلفاء کا وعدہ کیا کہ انہیں طاقتیں بخشے گا اور ان کو مشکلات اور خوفوں میں امن عطا کرے گا۔یہ کہانی کے طور پر نہیں۔یہ زمانہ موجود یہ مکان موجود تم موجود قادیان کی بستی موجود ملک کی حالت موجود ہے۔کس چیز نے ایسی سردی میں تمہیں دور دور سے یہاں اس مسجد میں جمع کر دیا؟ سنو! اسی دست قدرت نے جو متقیوں کو اعزاز دینے والا ہاتھ ہے۔اس سے پہلے پچیس برس پر نگاہ کرو۔تم سمجھ سکتے ہو کہ کون ایسی سخت سردیوں میں اس گاؤں کی طرف سفر کرنے کے لئے تیار تھا۔پس تم میں سے ہر فرد بشر اس کی قدرت نمائی کا ایک نمونہ ہے۔ایک ثبوت ہے کہ وہ متقی کے لئے وہ کچھ کرتا ہے جو کسی کے سان و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔یہ باتیں ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتیں۔یہ قربانیوں پر موقوف ہیں۔انسان عجیب عجیب خواہیں اور کشوف دیکھ لیتا ہے۔الہام بھی ہو جاتے ہیں۔مگر یہ نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔جس آدمی کی یہ حالت ہو وہ خوب غور کر کے دیکھے کہ اس کی عملی زندگی کس قسم کی تھی؟ آیا وہ ان انعامات کے قابل ہے یا نہیں؟ یہ مبارک وجود نمونہ ہے۔