خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 703

خطبات نور — Page 263

263 یاد رکھو اسی مہینہ میں ہی قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تھا اور قرآن مجید لوگوں کے لئے ہدایت اور نور ہے۔اسی کی ہدایت کے بموجب عمل درآمد کرنا چاہئے۔روزہ سے فارغ البالی پیدا ہوتی ہے اور دنیا کے کاموں میں سکھ حاصل کرنے کی راہیں حاصل ہوتی ہیں۔آرام تو یا مرکز حاصل ہوتا ہے یا بدیوں سے بچ کر حاصل ہوتا ہے اس لئے روزہ سے بھی سکھ حاصل ہوتا ہے اور اس سے انسان قرب حاصل کر سکتا اور متقی بن سکتا ہے۔اور اگر لوگ پوچھیں کہ روزہ سے کیسے قرب حاصل ہو سکتا ہے تو کہہ دے فانی قَرِيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ یعنی میں قریب ہوں اور اس مہینہ میں دعائیں کرنے والوں کی دعائیں سنتا ہوں۔چاہئے کہ پہلے وہ ان احکام پر عمل کریں جن کا میں نے حکم دیا اور ایمان حاصل کریں تاکہ وہ مراد کو پہنچ سکیں۔اور اس طرح سے بہت ترقی ہوگی۔بہت لوگ اس مہینہ میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے مگر خدا تعالیٰ چونکہ جانتا تھا کہ قوی آدمی ایک مہینہ تک صبر نہیں کر سکتا اس لئے اس نے اجازت دے دی کہ رات کے وقت اپنی بیویوں سے تم لوگ صحبت کر سکتے ہو۔بعض لوگ ایک مہینہ تک کب باز رہ سکتے ہیں اس لئے خدا نے صبح صادق تک بیوی سے جماع کرنے کی اجازت دے دی۔بد نظری شہوت پرستی کینہ بغض ،غیبت اور دوسری بد باتوں سے خاص طور پر اس مہینہ میں بچے رہو۔اور ساتھ ہی ایک اور حکم بھی دیا کہ رمضان میں اس سنت کو بھی پورا کرو کہ رمضان کی بیسویں صبح سے لے کر دس دن اعتکاف کیا کرو۔ان دنوں میں زیادہ توجہ الی اللہ چاہئے۔اور پھر رمضان کے بعد بطور نتیجہ کے فرمایا وَلا تَأكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوابها إلَى الْحُكّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ یعنی ناحق کسی کا مال لینا ایسا ضروری نہیں جیسے کہ اپنی بیوی سے جماع کرنا یا کھانا پینا۔اس لئے خدا تعالٰی سکھاتا ہے کہ جب تم خدا کی خاطر کھانے پینے سے پر ہیز کر لیا کرتے ہو تو پھر ناحق کا مال اکٹھا نہ کرو بلکہ حلال اور طیب کما کر کھاؤ۔اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب تک رشوت نہ لی جاوے اور دعا فریب اور کئی طرح کی بددیانتیاں عمل میں نہ لائی جاویں روٹی نہیں ملتی۔یہ ان کا سخت جھوٹ ہے۔ہمیں بھی تو ضرورت ہے۔کھانے پینے ، پہننے سب اشیا کی خواہش رکھتے ہیں۔ہماری بھی اولاد ہے۔ان کی خواہشوں کو بھی ہمیں پورا کرنا پڑتا ہے۔اور پھر کتابوں کے خریدنے کی بھی ہمیں ایک دھت اور ایک فضولی ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔گو اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے اور دوسری کتابوں کا خرید کرنا اتنا ضروری نہیں مگر میرے نفس نے ان کا