خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 264 of 703

خطبات نور — Page 264

264 خرید کرنا ضروری سمجھا ہے اور گو میں اپنے نفس کو اس میں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہونے دیتا مگر پھر بھی بہت سے روپے کتابوں پر بھی خرچ کرنے پڑتے ہیں۔مگر دیکھو ہم بڑھے ہو کر تجربہ کار ہو کر کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کی ضرورت سے زیادہ دیتا ہے۔بد سے بد پیشہ طبابت کا ہے جس میں سخت جھوٹ بولا جا سکتا ہے اور حد درجہ کا حرام مال بھی کمایا جا سکتا ہے۔ایک راکھ کی پڑیا دیگر طبیب کہہ سکتا ہے کہ یہ سونے کا کشتہ ہے۔فلانی چیز کے ساتھ اسے کھاؤ۔اور ایسے ہی طرح طرح کے دھو کے دیئے جا سکتے ہیں۔جس طبیب کو پوری فہم نہیں، پوری تشخیص نہیں اور دوائیں دے دے کر روپیہ کماتا ہے تو وہ بھی بطلان سے مال کماتا ہے۔وہ مال طیب نہیں بلکہ حرام مال ہے۔اسی طرح جتنے جعلساز ، جھوٹے اور فریبی لوگ ہوتے ہیں اور دھوکوں سے اپنا گزارہ چلاتے ہیں وہ بھی بطلان سے مال کھاتے ہیں۔ایسا ہی طبیبوں کے ساتھ پنساری بھی ہوتے ہیں جو جھوٹی چیزیں دے کر کچی چیزوں کی قیمت وصول کرتے ہیں اور بے خبر لوگوں کو طرح طرح کے دھوکے دیتے ہیں اور پھر پیچھے سے کہتے ہیں کہ فلاں تھا تو دانا مگر ہم نے کیسا الو بنا دیا۔ایسے لوگوں کا مال حلال مال نہیں ہو تا بلکہ وہ حرام ہوتا ہے اور بطلان کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔مومن کو ایک مثال سے باقی مثالیں خود سمجھ لینی چاہئیں۔میں نے زیادہ مثالیں اس واسطے نہیں دی ہیں کہ کہیں کوئی نہ سمجھ لے کہ ہم پر بد ظنیاں کرتا ہے۔اسی واسطے میں نے اپنے پیشہ کا ذکر کیا ہے۔میں اسے کوئی بڑا علم نہیں سمجھتا۔میں اسے ایک پیشہ سمجھتا ہوں۔طبیبوں سے حکماء لوگ ڈرے ہیں اس لئے انہوں نے اس پیشہ کا نام صنعت رکھا ہے۔یاد رکھو یہ بھی ایک کمینگی کا پیشہ ہے۔اس میں حرامخوری کا بڑا موقع ملتا ہے۔اور طب کے ساتھ پنساری کی دوکان بنانا اس میں بہت دھو کہ ہوتا ہے۔نہ صحت کا اندازہ لوگوں کو ہوتا ہے، نہ مرض کی پوری تشخیص ہوتی ہے۔اور پھر نہایت ہی معمولی سی جنگل کی سوکھی ہوئی ہوئی دے کر مال حاصل کر لیتے ہیں۔یہ بھی سخت درجہ کا بطلان کے ساتھ مال کھانا ہے۔وہ جو میں نے اپنے جنون کا ذکر کیا ہے، چند روز ہوئے ایک عمدہ کتاب بڑی خوشنما بڑی خوبصورت اور دل لبھانے والی اس کی جلد تھی جس پر رنگ لگا ہوا تھا اس کو جو کہیں رکھا تو اور چیزوں کو بھی اس سے رنگ چڑھ گیا جس سے ہمیں بہت دکھ پہنچا۔پس جلد کرنے جلد کی جو قیمت لی ہے حقیقت میں وہ حلال مال نہیں بلکہ بطلان سے حاصل کیا ہوا ہے۔اسی طرح اور بھی پیشے ہیں مگر ان کا ذکر میں اس واسطے نہیں کرتا کہ کسی کو رنج نہ پہنچے۔اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حکام تک مال نہ پہنچاؤ۔بعض لوگ یونہی لوگوں کو وسوسے ڈالتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ناجائز طور پر پھنسانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اس لئے بعض لوگ ان سے