خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 254 of 703

خطبات نور — Page 254

254 کچیل بھی دور ہو۔ایسے ہی کھانا کھانے سے پہلے بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھ کر کھانا شروع کرنا چاہئے اور ختم کرتے وقت الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین میسی دعا سکھائی ہے۔ایسے ہی بیوی کے ساتھ محبت کرنے کے لئے بھی دعائیں سکھائی ہیں اور پھر فراغت کے لئے بھی دعائیں بتائی ہیں۔یہاں تک کہ بازاروں میں جانے کی بھی دعائیں ہیں اور واپس آنے کی بھی دعائیں ہیں۔مسجدوں کے اندر داخل ہونے کی بھی دعائیں ہیں اور مسجدوں سے باہر نکلنے کی بھی دعائیں ہیں۔اور مطلب ان کا یہی ہوتا ہے کہ اللہ کی عظمت و رضامندی کا خیال ہر دم کر لیا جاوے۔اس کے انعاموں کو یاد کر کے اور فضلوں کا امیدوار بن کے ہر ایک کام کو کرنا چاہئے۔بڑے بڑے کاموں میں سے نکاح بھی ایک کام ہے۔اکثر لوگوں کا یہی خیال ہوتا ہے کہ بڑی قوم کا انسان ہو۔حسب نسب میں اعلیٰ ہو۔مال اس کے پاس بہت ہو۔حکومت اور جلال ہو۔خوبصورت اور جوان ہو۔مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوشش کیا کرو کہ دیندار انسان مل جاوے۔اور چونکہ حقیقی علم اخلاق عادات اور دینداری سے آگاہ ہونا مشکل کام ہے، جلدی سے پتہ نہیں لگ سکتا اس لئے فرمایا کہ استخارہ ضرور کر لیا کرو۔اور صرف ناطہ کی رسم رکھی ہے اور نکاح کی نسبت اللہ کریم فرماتا ہے کہ اس سے غرض صرف مستی کا مٹانا ہی نہ ہو بلکہ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (المائده) کو مد نظر رکھے اور ہر ایک بات میں اس خدا کے آگے جس کے ہاتھ میں مال جان اخلاق و عادات اور ہر ایک طرح کا آرام ہے بہت بہت استغفار کرے اور بے پرواہی سے کام نہ لے خواہ وہ انتخاب لڑکوں کا ہو یا لڑکیوں کا۔کیونکہ بعد میں بڑے بڑے ابتلاؤں کا سامنا ہوا کرتا ہے اور ابتلا کئی طرح کے ہوا کرتے ہیں۔ا۔راستبازوں اور اولوالعزم نبیوں پر بھی ابتلا آتے ہیں جیسے وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ (البقره:۱۳۵) - ۲۔بدذاتوں، بے ایمانوں کافروں اور مشرکوں پر بھی ابتلا آتے ہیں نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الاعراف: ۱۶۴)۔۳۔ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اور گروہ بھی ہے ان پر بھی آتے ہیں جیسے فرمایا وَ بَلَوْنَهُمْ بِالْحَسَنَتِ وَالسَّيِّاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الاعراف: ۱۲۹)۔اور کبھی ابتلا ترقی مدارج کے لئے بھی آتے ہیں۔جیسے فرمایا وَلَتَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَتْ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَأُولئِكَ هُمُ