خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 251 of 703

خطبات نور — Page 251

251 ہے۔کچھ لڑکے ایک طرف سے پکڑتے ہیں اور کچھ دوسری طرف سے اور آپس میں کھیلتے ہیں۔کبھی وہ فتح پالیتے ہیں اور کبھی وہ اور کبھی رسہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔مگر اللہ کریم فرماتا ہے ہم نے بھی ایک رسہ بھیجا ہے مگر سب مل کر ایک ہی طرف کھینچو۔تفرقہ ، بغض اور عداوت کو بالکل چھوڑ دو۔ایسی کوئی بات تم میں نہ پائی جاتی ہو جس سے تفرقہ پیدا ہو۔دیکھو تم طالب علموں میں سے کسی کا باپ اعلیٰ عہدہ پر ہے۔کوئی خوبصورت ہے۔کسی کے پاس مال و دولت بہت ہے۔کوئی عظمندی کا دعوی کرنے والا ہے۔کوئی طاقت والا ہے مگر ان پر ناز مت کرو اور بھول میں مت پڑو۔یاد رکھو اللہ ایک دن میں تباہ کر دیا کرتا ہے۔بڑے بڑے امیروں اور دولتمندوں کے بچوں کو میں نے بھیک مانگتے اور بھیک مانگ کر مرتے دیکھا ہے اور بعضوں کو میں نے اپنے والدین کو گالی نکالتے دیکھا ہے کہ انہوں نے یہ پختہ حویلیاں اور درو دیوار بنائے ہیں اور ایسے محل بنا کر مرگئے ہیں کہ ہم آسانی سے بیچ بھی نہیں سکتے۔خدا کے فضل اور رحمت کے امیدوار ہو۔دیکھو ہم کس قدر بیٹھے ہیں۔ایک لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله کے چھوٹے سے کلمہ طیبہ نے ہم سب کو اکٹھے کر دیا ہے اور ایسے ملاپ کر دینے صرف اللہ کریم کا ہی کام ہے۔انسانی کوشش سے یہ کام نہیں ہوا کرتے۔خدا کے فضل سے ہی ہم اکٹھے ہو گئے ہیں اور اس طرح سے ہی بچ سکتے ہیں۔کسی کی شکل پر حرکات پر غرض افعال اور اقوال پر کوئی چھیڑ چھاڑ کی بات نہ کرو اور یہ اچھی طرح سے یاد رکھو کہ جو چڑ بناتے ہیں اور تفرقہ ڈالتے ہیں وہ عذاب عظیم میں مبتلا ہوتے ہیں۔یقیناً یاد رکھو کہ بدی کا انجام ہمیشہ بد ہوتا ہے اور سرخروئی اللہ کریم کی رحمت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔یہ خدا کی باتیں ہیں جو ہم نے تم کو پڑھ کر سنا دیں۔اللہ ظلم نہیں چاہتا۔اللہ کریم ہم سب کو عمل کی توفیق دے۔اس پر حضرت حکیم الامت نے دوسرا مسنونہ خطبہ پڑھنا شروع کیا۔شروع کرنا ہی تھا کہ ایک دو شخص شاید وضو کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور پھر انہیں کی دیکھا دیکھی بھیڑ چال کی طرح بیبیوں اور اٹھ کھڑے ہوئے۔) اس پر حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ دو سرا خطبہ بھی نصیحت ہی ہوتی ہے۔اس وقت اٹھ کھڑے ہونا درست نہیں اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا ہوا کرتا تھا کہ جب دوسرا خطبہ ہو تو ملنے جلنے لگ جاؤ۔دیکھو میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (الشعراء:) کوئی خوشامد نہیں۔تمہارے سلام کی بھی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔تمہاری دعاؤں کی بھی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔کوئی نصیحت جو ہم کرتے ہیں تو محض اللہ کے لئے کرتے ہیں۔