خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 233 of 703

خطبات نور — Page 233

233 رہی ہیں۔اس لئے مرجع کے ذکر کرنے کی یہاں پر بھی ضرورت نہیں بلکہ ذکر کرنے مرجع میں کلام الہی عالی مقام بلاغت سے نیچے اتر جاتا ہے۔واضح ہو کہ یہ پیشین گوئی براہین احمدیہ میں مندرج ہے جس کو مدت پچیس یا چھبیس سال کے منقضی ہو گئے ہیں اور اب اس الہام کا منجاب اللہ ہونا ایسا ثابت ہو گیا جس میں سخت معاند بھی کوئی اعتراض پیدا نہیں کر سکتا۔کیوں کہ جس وقت میں یہ الہام ہوا ہے اس وقت میں کوئی کتاب متضمن معارف اور حقائق قرآن مجید کی قادیان سے دنیا میں بکثرت شائع نہیں ہوئی تھی۔لیکن اگر اس وقت سے لے کر اس وقت تک نظر کی جاوے تو ہر ایک اہل بصیرت پر مشاہدہ ہو گا کہ ہزاروں معارف قرآن مجید کے من ابتدائے اشاعت براہین احمدیہ لغایت اشاعت حقیقۃ الوحی قادیان سے تمام دنیا میں شائع ہو چکے ہیں اور حقیقت قرآن مجید اور نبوت محمدیہ کی حجت جملہ اہل مذاہب پر خواہ یہود ہوں یا نصاری، آریہ ہوں یا سناتن دہرم، سکھ ہوں یا نیچری کل پر پوری کر دی گئی ہے اور کی جاتی ہے اور کی جاوے گی۔انشاء اللہ تعالی۔اگر اس پچتیں چھپیں برس کی کتابوں کو جمع کیا جاوے تو ایک بڑے مکان میں بھی وہ نہ سا سکیں گی۔پس اگر یہ الہام منجانب اللہ نہیں تھا تو کیوں پورا ہو!؟ قادیان کوئی بڑی بستی نہیں تھی جس سے مانند مصر و یونان کے چشمے علم و حکمت کے جاری ہو جاتے اور علم و حکمت بھی وہ جو مصداق ہو يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِم (البقہ ۳۰:۵) کا۔کیا اچھا کیا ہے حالی نے جو قادیان کے بھی حسب حال ہے۔اب حالی صاحب کو بھی حال قادیان سے غیرت پکڑنا چاہئے۔نه نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی یونان کے علم و فن کی خبر تھی طبع بشر تھی وہی اپنی فطرت خدا کی زمیں بن جتی سر بر تھی مع ہذا۔اگر یہ الہام من جانب اللہ نہ ہوتا تو پھر ایسی چھوٹی سی بستی سے یہ چشمے معارف قرآنی اور حقائق اسلامی کے تمام دنیا میں کیونکر جاری ہو سکتے تھے کہ جن کی نہریں تمام دنیا امریکہ۔یورپ یعنی جرمن، فرانس۔روس۔جاپان وغیرہا میں جاری ہو چلی ہیں۔دیکھو کارخانه ریویو آف ریلیجنز الحکم، ، تعلیم الاسلام اور تشخیز الاذہان وغیرہا کو۔اور قریبا منَ الْقَادِيَانِ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ وہ معارف اور حقائق قرآنی جو مصداق هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقره: ۱۸۲) کے ہیں، ان میں اور قادیان کے لوگوں میں ایک پردہ غلیظ واقع ہو رہا ہے جس کی وجہ سے فِی الْقَادِيَانِ نہ فرمایا گیا۔بدر