خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 222 of 703

خطبات نور — Page 222

222 اس نے دنیا کی ذلت اور پستی کو اپنے لازم حال کر لیا اور اپنی خواہش نفسانی کے پیچھے لگ گیا تو اس کی مثل کتے کی سی مثل ہے کہ اگر اس پر دوڑ نے جھپٹنے کا بار ڈالو تب بھی زبان کو باہر نکال کر ہانپتا رہتا ہے اور اگر اس کو اسی کے حال پر چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہانپتا رہتا ہے۔یہ ہے مثل ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں اور نشانوں کو جھٹلایا۔تو اے پیغمبر! یہ قصے بیان کرتے رہو تاکہ یہ لوگ کچھ سمجھیں سوچیں۔ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آیات الہی کی تصدیق کرنا اور ان کے بموجب عملدرآمد کرنا باعث رفع درجات کا ہے اور تکذیب آیات اللہ کی اور ان سے اعراض کرنا موجب ذلت اور پستی کا ہے۔چونکہ انبیاء آیات اللہ کے مبلغ ہوتے ہیں تو ان کا رفع بطریق اولی ہوا کرتا ہے اور ان کے متبعین کا رفع به سبب اتباع مقتضی ان آیات کے ان کو حاصل ہوتا ہے اور ان کے مکذبین کو دنیا اور آخرت میں بجز عذاب شدید کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔چنانچہ یہ تینوں امر اللہ تعالیٰ نے آیت يَا عِيسَى انى مُتَوَفِّيكَ (ال عمران (۵۲) میں بیان فرما دیئے ہیں۔رفع عیسی کا فوقیت متبعین کی کافروں اور مکذبین کو عذاب شدید دنیا اور آخرت میں۔آتَيْنَاهُ ايَاتِنَا سے معلوم ہوتا ہے کہ بالضرور علم آیات الہیہ اس کو دیا گیا تھا خواہ وہ آیات اللہ اور حج دربارہ توحید کے ہوں یا اسم اعظم یا الہامات یا اجابت دعا وغیرہ ہو جیسا کہ تفاسیر میں لکھا ہے۔بہر حال علم الہیات کا بخوبی اس کو حاصل تھا پھر بھی ایک نبی کی مخالفت سے مردود درگاہ ہو گیا۔قصہ آدم اور ابلیس کا جو متعدد جگہ پر قرآن شریف میں مختلف اسلوبوں سے بیان فرمایا ہے اس کا لب اور خلاصہ بھی یہی ہے۔یہ آیات اہل علم کے لئے بلکہ ان لوگوں کے لئے جو ملہم بھی ہیں ، بڑی عبرت دلانے والی ہیں کہ مامور من اللہ کے مقابلہ اور مخالفت میں جو ان کے الہامات ہوں یا علمی شبہات ہوں، ان کا اتباع صرف اتباع ہوا کا ہے، لاغیر۔کیونکہ ان کے الہامات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حفاظت نہیں ہوتی ہے بلکہ شیطانی دخل ان الہامات میں اکثر ہو جاتا ہے جس کا نام اتباع ہوا ہے اور اس کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔بخلاف مامور من اللہ کے الہام کے کہ ان کے الہاموں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی حفاظت کی جاتی ہے۔كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (الحن:۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ چلاتا ہے مامور من اللہ کے الہامات کے پیچھے چوکیداروں کا پہرہ تاکہ اس میں شیطانی دخل نہ ہونے پاوے۔اور اس مسئلہ الہامات کو ہم نے کتاب ايَاتُ الرَّحْمَنِ لِنَسْحَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ میں ایسا بیان کر دیا ہے جس سے درمیان الهامات عوام غیر مامورین اور الہامات مامورین من اللہ کے ایک مابہ الامتیاز