خطبات نور — Page 201
201 پیشین گوئی لطیف مندرجہ آیت پوری ہوئی، اب آگے اہل کتاب کا وہ استبعاد رفع کیا جاتا ہے جو ان کو حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارہ میں تھا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں پر آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو چن لیا ہے۔کیونکہ یہ سب اولاد آدم کی ہیں کہ بعض ان کے بعض کی نسل سے ہیں اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا اور جانے والا ہے۔فائدہ۔مراد یہ ہے کہ یہ امر تمہارے نزدیک مسلمات سے ہے کہ حضرت آدم جس طرح پر ابوالبشر ہیں اسی طرح ابو الانبیاء بھی ہیں۔یعنی نور اصطفا کا اولا ان میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور چونکہ لائق اولاد اپنے باپ کی وارث ہوتی ہے اس لئے ضروری ہوا کہ نور نبوت کا ان کی اولاد لا ئق کو بھی پہنچے۔چنانچہ ایسا ہی کچھ ہوا کہ آدم کی اولاد میں شیث سے لے کر حضرت ادریس تک وہ نور نبوت منتقل ہو تالا ئق اولاد میں چلا آیا۔اور اصطفا سے ہم نے نور نبوت اس لئے مراد لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انٹی اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بر سلتی (الاعراف: ۱۳۵ یا حضرت ابراہیم اور اسحاق و یعقوب کے بارہ میں فرماتا ہے وَإِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ (ص) (۳۸) پس مراد اصطفا سے وہی نور نبوت اور رسالت کا ہے جو آدم ثانی حضرت نوح کو بھی حاصل ہوا۔حتی کہ حضرت نوح سے ابراہیم کو مرحمت ہوا۔بعدہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں حضرت اسمعیل و اسحاق کو ملا جو آل ابراہیم سے ہیں۔حضرت اسحاق کی اولاد میں یعقوب ہوئے یعنی اسرائیل جس کی اولاد میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے اور حضرت عیص بھی یعقوب کی اولاد میں ہیں جن کی ذریت میں کثرت سے بادشاہ ہوئے۔بالاخر چونکہ عہد عقیق میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیل اور اسحاق دونوں سے تو رات میں وعدہ کیا تھا لہذا وہ وعدہ پورا ہو تا ہو اپنی اسرائیل میں چلا آیا حتی کہ بالآخر بموجب وعد ہائے تو رات کے بنی اسمعیل میں سے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کو وہ نور نبوت تامہ اور نیز خلافت عامہ کا مرحمت ہوا اور کیونکر نہ ہوتا کہ حضرت اسمعیل بھی آل ابراہیم میں داخل ہیں اور آل ابراہیم کے لئے وعدہ ہو چکا ہے۔پس اس دلیل۔جو مسلمہ اہل کتاب ہے لازم آیا کہ بنی اسمعیل " میں بھی وہ وعدہ اصطفا اس شان سے پورا ہووے کہ تدارک مافات کا کر دیوے۔اور مافات یہ ہے کہ جس طرح سے من ابتدائے حضرت یعقوب " تا عیسی کثرت سے انبیاء بنی اسرائیل میں ہوتے چلے آئے اور بنی اسمعیل میں کوئی نبی اولو العزم پیدا نہیں ہوا تو نی اسمعیل میں ایک ایسانی عظیم الشان سید المرسلین و خاتم النبین پیدا ہو وے جو سب انبیاء بنی اسرائیل پر فائق ہو جاوے۔چنانچہ اس وعدہ کے پورا ہونے سے ان وعدوں مندرجہ تو رات کی تصدیق ہو گئی جو بڑے زور و شور سے تو رات میں اب تک موجود ہیں۔یہ ایک بڑی حجت ہے آنحضرت کی تصدیق نبوت