خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 190 of 703

خطبات نور — Page 190

190 داری سکھائی ہے اور سخن سازی سے بچایا ہے۔یہ عام قاعدہ ہو رہا ہے کہ دو تین آدمی جب مل کر بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آؤ ذرا مجلس گرم کریں۔وہ مجلس گرم کرنا کیا ہوتا ہے؟ کسی کی تحقیر شروع کر دی۔کسی کے لباس پر کسی کی زبان پر کسی کے قدو قامت پر کسی کے علم و عقل پر ، غرض مختلف پہلوؤں پر نکتہ چینی اور ہنسی اڑانا شروع کیا اور بڑھتے بڑھتے یہ ناپاک اور بے ہودہ کلام مذمت ، غیبت اور دروغ گوئی تک جا پہنچا۔پس تمہیں مناسب ہے کہ ایسی مجلسوں کو ترک کر دو جہاں سے تم بغیر لعنت کے اور کچھ لے کر نہ اٹھو۔خدا تعالیٰ نے اس لئے فرمایا ہے۔كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبہ: صادقوں کے ساتھ رہو۔کیونکہ وہاں تو بجز صدق کے اور کوئی بات ہی نہ ہو گی۔ایسی تمام مجلسوں سے الگ ہو جاؤ جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر نہیں ہے۔اور یہ بھی یاد رکھو کہ سوء ظن بہت بری چیز ہے۔اس سے بہت بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔غیبت اور دروغ گوئی یہ اسی سوء ظن سے پیدا ہوتی ہیں۔اس واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا - إِيَّاكَ وَ الظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (بخاری۔کتاب الوصایا)، سوء ظن سے انسان بہت جھوٹا ہو جاتا ہے اور ظنون بجائے خود بھی جھوٹے ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ اس جھوٹ اور بدظنی سے بڑی ٹھوکریں لگتی ہیں اور انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔اس سے بچو! پھر بچو!! اور پھر بچو!!! اس معاملہ میں عورتوں اور مردوں میں ایک تفاوت ہے اور ان کے مراتب مختلف ہیں۔عام طور پر عورتیں نَاقِصَاتُ الْعَقْلِ والدین کہلاتی ہیں۔ایک عظیم الشان عورت کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے، میں کھول کر بتا دوں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بعض نے سوء ظنی کی۔اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہ کی تطہیر فرمائی اور ان بدظنی کرنے والوں کے لئے حکم آیا۔لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ (النور) یعنی جب عائشہ صدیقہ کی نسبت کوئی بات تم نے سنی تھی تو کیوں تم نے سنتے ہی نہ کہا کہ یہ بات تو منہ سے نکالنے ہی کے قابل نہیں۔بلکہ تم یہ کہتے۔سُبْحَانَكَ (النور :(۱۷) پاک ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔مگر هَذَا بُهْتَانُ عَظِيمُ (النور: ۱۷) یہ تو بہت ہی بڑا بہتان ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَعِظُكُمْ (النور (۱۸) اللہ تعالیٰ تمہیں وعظ کرتا ہے کہ ایسا پھر نہ کرنا۔یہ ابد کے لئے حکم ہے کہ جب کسی کی نسبت کوئی ایسی بات سنو تو کہو کہ بہتان ہے۔بدظنی کرنی شروع نہ کر دو۔پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ اس قسم کی بلاؤں میں گرفتار ہوتے ہیں یعنی دوسرے کو متہم کرتے ہیں وہ ہرگز نہیں مرتے جب تک خود اس اتمام کا شکار نہ ہو لیں۔اس لئے یہ بڑے ہی خوف اور خطرے کا مقام ہے۔افسوس ہے لوگ ان باتوں کو معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی ضروری امور ہیں۔