خطبات نور — Page 180
180 ہے مگر اپنی ضرورتوں کو رفع نہیں کر سکتا۔پس میری رائے یہ ہے کہ تم میں سے ایک جماعت قائم ہو جو ان سب کی خبر گیری کیا کرے اور اس قسم کے صدقہ اور خیرات کے روپیوں کو مناسب مقام پر تقسیم کر دیا کرے۔بعض طالب علم مدرسہ کے اور بعض ہمارے پاس بھی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے لئے خبر گیری کی ضرورت ہوتی ہے۔پس اگر جماعت قائم ہو تو وہ اس کی بھی خبر لے سکتی ہے۔انسانی ہمدردی اور باہمی تعاون کے بہت برکات اور افضال ہیں اور اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان پر وعدہ فرماتا ہے۔اللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ (احمد بن حنبل جلد۲ صفحه ۳۷۴)۔میں چونکہ یہاں رہتا ہوں اور پھر سارے دن باہر رہتا ہوں اس لئے مجھے ان ضرورتوں کا علم ہے اور میری نسبت دوسروں کو کم ہے۔خدا ہی ان کا سرانجام دینے والا اور مجھے بھی وہی دیکھنے والا ہے۔ایسے امور کے لئے آپ سعی کریں اور دوسرے بھائیوں تک بھی پہنچا دیو ہیں۔جیسے ہمارے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور کوئی فوجی کمانڈر تھا۔کوئی کاتب تھا۔کوئی قرآن پڑھانے والا تھا۔کوئی اخوت کی بہتری کی فکر کرنے والا تھا۔کوئی بادشاہوں کے پاس خطوط پہنچاتا تھا۔کوئی نیک تحریکیں کرنے والا تھا۔ایسے ہی اگر مختلف مدیں مختلف لوگوں کے سپرد ہوں اور ایک کمیٹی قائم ہو کر ان سب امور کی ترتیب کیا کرے تو امید ہے کہ بہت کچھ انتظام ہو جاوے۔خدا تعالیٰ مجھے اور آپ کو عملد رآمد کی توفیق عطا فرمادے۔اس کے بعد حکیم صاحب موصوف نے حضرت اقدس علیہ السلام سے درخواست کی کہ حضور دعا فرما دیں کہ ہم سب کو نیکی اور عملدرآمد کی توفیق عطا ہو۔خصوصاً مجھ کو کہ لوگوں کو تو سناتا ہوں، کہیں خود ہی اس پر عملدرآمد سے نہ رہ جاؤں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے دعا فرمائی۔الحکم جلد نمبر ---۱۰۰/ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۔۱۲) الحکم جلد نمبر ۲ --- ۷ار جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۱۱۹)