خطبات نور — Page 179
179 کوشش سے کامیابیاں حاصل نہیں ہوا کرتیں۔کیونکہ یہ سارے علل اسباب سے آگاہ نہیں ہو سکتا۔دیکھو ایک سال کی جانکاہ محنت سے زمیندار خرمن جمع کرتا ہے مگر جسے اتفاق کہتے ہیں اس سے آگ لگ کر سارے کا سارا خاک ہو جاتا ہے۔اگر اسے کامل علم ہوتا اور کامل اسباب حفاظت پردہ احاطہ کر سکتا تو کیوں یہ بربادی دیکھتا۔یہی حالت انسان کے اعمال کی ہے۔اگرچہ وہ بڑے بڑے اعمال کرتا ہے لیکن ایک مخفی گند اندر ہوتا ہے جس سے وہ تمام برباد ہو جاتے ہیں۔اس کا علاج وہی ہے جو کہ ذکر کیا کہ دعا اور استغفار اور لاحول سے کام لو۔پاک لوگوں کی صحبت میں رہو۔اپنی اصلاح کی فکر میں مضطر کی طرح لگے رہو کہ مضطر ہونے پر خدا رحم کرتا ہے اور دعا کو قبول کرتا ہے۔دوسرے کی تحقیر مت کرو کہ اس سے خدا بہت ناراض ہوتا ہے اور دوسرے کو حقیر جاننے والے لوگ نہیں مرتے جب تک کہ اس گند میں خود نہ مبتلا ہوں جس کی وجہ سے دوسرے کو حقیر جانتے ہیں۔(اس تقریر کے بعد حضرت حکیم الامت بیٹھ گئے اور پھر کھڑے ہو کر فرمایا) آج عید کا دن ہے اور رمضان شریف کا مہینہ گزر گیا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ایام تھے جبکہ اس نے اس ماہ مبارک میں قرآن شریف کا نزول فرمایا اور عامہ اہل اسلام کے لئے اس ماہ میں ہدایت مقدر فرمائی۔راتوں کو اٹھنا اور قرآن شریف کی تلاوت اور کثرت سے خیرات و صدقہ اس مہینہ کی برکات میں سے ہے۔آج کے دن ہر ایک کو لازم ہے کہ سارے کنبہ کی طرف سے محتاج لوگوں کی خبر گیری کرے۔دو بک گیہوں کے یا چار جو کے ہر ایک نفس کی طرف سے صدقہ نماز سے پیشتر ضرور ادا کیا جاوے اور جن کو خدا نے موقع دیا ہے وہ زیادہ دیو ہیں۔اس جگہ مختلف ضرور تیں ہیں کہ جن کے لئے لوگوں کے خیرات کے روپیہ کی ضرورت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اس قسم کا کل روپیہ ایک جگہ جمع ہو تا تھا اور پھر آپ اسے مختلف مدوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ایک یہاں مدرسہ ہے اور اس وقت اسے بڑی ضرورت امداد کی ہے۔مہمانوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔بعض وقت دیکھا گیا ہے کہ ان بیچاروں کا سفر خرچ کسی گناہ کے باعث یا کسی مصلحت الہی سے جاتا رہتا ہے۔مثلا کسی نے چرا لیا یا گر گیا وغیرہ۔پھر غور کرو کہ مسافرت اور اجنبیت میں کس قدر تکلیف ہوتی ہے۔ایسے ہی ایک گروہ مساکین کا رہتا ہے۔تو ان سب کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے۔یہاں رہنے والے تین طرح کے لوگ ہیں۔ایک تو وہ جو حصول ایمان کے لئے رہتے ہیں اور ان کو متواتر تجربہ سے علم ہو گیا ہے کہ ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خبر گیری کرتا ہے۔بعض لوگ ملازم ہیں اور ان کی معاش کی سبیل قائم ہے۔اور ایک گروہ وہ ہے جو صرف محبت کی وجہ سے رہتا