خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 703

خطبات نور — Page 178

178 گا۔اسی وحدت کی بنیاد کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (الانفال:۴۷) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اور ان کی اطاعت اسی حال میں کر سکو گے جبکہ تم میں تنازع نہ ہو۔اگر تنازعات ہوں گے تو یاد رکھو کہ قوت کی بجائے تم میں بزدلی پیدا ہوگی۔اور جو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہو گی وہ نکل جاوے گی۔یہ بات تم کو صبر اور تحمل سے حاصل ہو سکتی ہے۔ان کو اپنے اندر پیدا کرو۔تب خدا کی معیت تمہارے شامل حال ہو کر وحدت کی روح پھونکے گی۔پس اگر تم کوئی طاقت اپنے اندر پیدا کرنا چاہتے ہو اور مخلوق کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتے ہو تو صبر اور تحمل سے کام لو اور تنازع مت کرو۔اگر چشم پوشی سے با ہم کام لیا جاوے تو بہت کم نوبت فساد کی آتی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ لوگ جسمانی بیماریوں کے لئے تو علاج اور دوا تلاش کرتے ہیں لیکن روح کی بیماری کا فکر کسی کو بھی نہیں ہے۔اس وقت مسلمانوں کی حالت کی مثال ایک جنم کے اندھے کی سی ہے کہ اس سے اگر بینائی کی خوبی اور لذت دریافت کی جائے تو وہ اسے جانتاہی نہیں ہے اور اسی لئے اس کے آگے بینائی کی قدر بھی نہیں کیونکہ اس نے اس لذت کو پایا نہیں۔پس اس وقت کے موجودہ مسلمان بھی اس طاقت کی خوبی کو جو کہ قومی اتحاد اور وحدت سے پیدا ہوتی ہے نہیں پہچانتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سلطنت ان کے ہاتھ سے جاچکی ہے اور اسی لئے انہیں اس طرف توجہ بھی نہیں کہ دوسرے کو اپنے ماتحت کس طرح کیا کرتے ہیں۔آج کل اگرچہ ریفار میشن کے مدعی تو سینکڑوں ہیں لیکن وہ کیا ریفار میشن کریں گے جبکہ خود ہی بغضوں اور کینوں میں گرفتار ہیں۔دعوئی تو ہے مگر سمجھ نہیں کہ یہ خدا کے مامور ہی کا کام ہے جو کر سکتا ہے۔پس اے عزیز و اور دوستو! اپنی کمزوری کے رفع کے لئے کثرت سے استغفار اور لاحول پڑھو اور رب کے نام سے دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہاری ربوبیت یعنی پرورش کرے۔تم کو مظفر و منصور کرے تاکہ تم آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نیک نمونہ بن سکو۔یہ نہ ہو کہ خدا نخواستہ لَعَنَتْ أُخْتَهَا (الاعراف: ۳۹) کے مصداق بنو (جب دوزخیوں کا ایک گروہ دوزخ میں داخل ہو گا تو جو اس میں اول موجود ہوں گے وہ ان پر لعنت کریں گے کہ ہم نے تو کچھ نہ کیا تم ہی کرتے تھے) جیسے آجکل کے رافضی ہیں۔اس کا بچاؤ ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ کچی اتباع کرو۔اپنے استنباط اور اپنے اجتہاد جس سے تم نفس کے دھو کہ میں آجاتے ہو، دور کرو۔آپس میں خوش معاملگی اور احسن سلوک برتو۔رنج، بخل، حسد کینہ سے بچو کہ خدا تعالیٰ کے وعدے کے موافق جو کہ اس نے اپنے مرسل کی جماعت سے کیا ہے اِنا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ امَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيا (المومن (۵۲) پورا ہو کر رہے۔مطلق انسان کی