خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 8 of 703

خطبات نور — Page 8

8 طواف کرتے ہیں۔عبادت الہی کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔خدا تعالی کے روزوں کو چھوڑ کر دوسروں کے روزے رکھتے اور خدا تعالی کی نمازوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیر اللہ کی نمازیں پڑھتے ہیں اور ان کے لئے زکو تین دیتے ہیں۔ان اوہام باطلہ کی بیخ کنی کے لئے اللہ تعالٰی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔انسان کی اوسط عمر ساٹھ ستر اسی۔پس اس عمر کا انسان پچھلی صدی کے حالات تو پہچان سکتا ہے۔یہ احسان ہے اللہ تعالیٰ کا جو اسلام سے مخصوص ہے کہ بھولی بسری متاع جیسا وقت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے اللہ تعالٰی اس کو یاد دلانے والا بھیج دیتا ہے۔یہ انعام ہے، یہ فضل اور احسان ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لائے تھے اور جس کے ضروری کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی ذات کے سوا نہ ہمارا خالق ہے نہ رازق نہ اس کے سوا علیم نہ میں نہ ہمیت نہ سکھ دکھ دینے والا ہے۔بلکہ صرف خدا ہی ہے جو سب کام کرنے والا ہے۔سجدہ رکوع ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا ہو پکارتا ہو، یہ سب کام صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں۔ملائکہ پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ کی کتابوں، اس کے پاک رسولوں کو ماننا اور جزا و سزا پر ایمان لانا اور اس امر کا ماننا کہ ہر چیز کا اس نے اندازہ کیا ہے۔یہ ایمان کے اصول ہیں۔اپنے سب عقائد کو رضائے الہی میں لگا دینا ایک سچے مومن کا کام ہے۔پانچ وقت کی نماز ادا کرنا اپنے مال میں سے ایک معین حصہ یعنی زکوۃ کا ادا کرنا، یتیموں ، بیکسوں اور رشتہ داروں کی خبر گیری کرنا، رنج و راحت، بیماری تندرستی، دکھ سکھ ، غربی، امیری، مقدمہ مقابلہ، عسریر، صلح، عداوت میں خدا تعالیٰ کی رضاء کو ہاتھ سے نہ دینا یہ اصول یہ پاک اور مبارک اصول ممکن تھا کہ بھول جاتے جس طرح اور قومیں اپنی کتابیں کھو بیٹھیں۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کا فضل ، اس کا کمال احسان ہوا کہ ایمان، عقائد اخلاق فاضلہ کے سکھانے کے لئے اور اصلاح نفس اور تہذیب کے لئے وہ وقت پر اور عین ضرورت کے وقت پر اپنے پاک بندے پیدا کرتا رہتا ہے۔بڑے ہی بد قسمت ہیں وہ لوگ جن کو ان بیدار کرنے والوں کی خبر ہی نہیں ہوتی۔اور بڑے ہی بد قسمت ہیں وہ لوگ جن کو خبر تو ہوتی ہے مگروہ اپنی کسی خطا کاری کے برے نتیجے کی وجہ سے اس کو شناخت نہیں کر سکتے۔غرض اس آیت میں خدا تعالی اس فطرت کے لحاظ سے جو انسان میں ہے ارشاد فرماتا ہے کہ میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی ہیں۔وَانّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ بنی اسرائیل کو کہتا اور مسلمانوں کو سناتا ہے کہ میں نے تم کو دنیا پر ایک قسم کی بزرگی عطا فرمائی ہے۔خدا تعالی کے حکموں پر چلتے والا آسمانی اور پاک علوم سے دلچسپی رکھنے والا جیسی زندگی بسر کر سکتا ہے اس سے بہتر اور افضل وہم میں