خطبات نور — Page 158
۲۲ جنوری ۱۹۰۴ء مسجد اقصیٰ قادیان 158 خطبہ جمعہ اَشْهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ - أَمَّا بَعْدُ۔إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (البقره: ۱۲۳) لَا إِلَهَ إِلَّا الله یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جسے ہر ایک طبقہ کے مسلمان خواہ مرد ہوں خواہ عورت، بچہ ہو یا بوڑھا بداطرار ہو یا نیک اطوار اعلیٰ ہو یا ادنی غرض کہ سب جانتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ دو برس اور ڈیڑھ برس کا بچہ بھی لا اله الا الله جانتا ہے۔اگر کسی سے سوال ہو کہ میاں تم مسلمان ہو؟ تو وہ جھٹ لا اله الا اللہ پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دے دیتا ہے۔اب غور کرو اور سوچو کہ اس اقرار اور اس کے تکرار کرنے میں کیا سر ہے؟ کیا یہ ایک چھوٹی سی بات ہے جو کہ اہل اسلام کو بتلائی گئی تھی۔نہیں، ہرگز نہیں۔اس چھوٹے سے فقرے میں دو باتیں ہیں۔اول حصہ میں تو انکار اور دوسرے میں اقرار ہے۔اور ان چند ایک چھوٹے حرفوں میں اس قدر قوت اور زور ہے کہ اگر ایک شخص سو برس تک کافر رہے اور کفر کے کام بھی کرتا رہے لیکن اگر وہ اپنے آخر وقت میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہہ دے تو وہ