خطبات نور — Page 148
148 صحابہ کرام کے اس سوال پر کہ اور چاندوں کے برکات و انوار سے ان کو اطلاع دی جاوے اللہ جل شانہ نے یہ جواب دیا۔قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَج یعنی جیسے ماہ رمضان تقویٰ سکھانے کی ایک شے ہے ویسے ہر ایک مہینہ جو چڑھتا ہے وہ انسان کی بہتری کے لئے ہی آتا ہے۔انسان کو چاہئے کہ نے چاند کو دیکھ کر اپنی عمر رفتہ پر نظر ڈالے اور دیکھے کہ میری عمر میں سے ایک ماہ اور کم ہو گیا ہے اور نہیں معلوم کہ آئندہ چاند تک میری زندگی ہے کہ نہیں۔پس جس قدر ہو سکے وہ خیر و نیکی کے بجالانے میں اور اعمال صالحہ کرنے میں دل و جان سے کوشش کرے اور سمجھے کہ میری زندگی کی مثال برف کی تجارت کی مانند ہے۔برف چونکہ پگھلتی رہتی ہے اور اس کا وزن کم ہو تا رہتا ہے اس لئے اس کے تاجر کو بڑی ہوشیاری سے کام کرنا پڑتا ہے اور اس کی حفاظت کا وہ خاص اہتمام کرتا ہے۔ایسے ہی انسان کی زندگی کا حال ہے جو برف کی مثال ہے کہ اس میں سے ہر وقت کچھ نہ کچھ کم ہوتا ہی رہتا ہے اور اس کا تاجر یعنی انسان ہر وقت خسارہ میں ہے۔چونسٹھ۔پینسٹھ سال جب گزر گئے اور اس نے نیکی کا سرمایہ کچھ بھی نہ بنایا تو وہ گویا سب کے سب گھاٹے میں گئے۔ہزاروں نظارے تو آنکھ سے دیکھتے ہو۔اپنے بیگانے مرتے ہیں۔اپنے ہاتھوں سے تم ان کو دفن کر کے آتے ہو اور یہ ایک کافی عبرت تمہارے واسطے وقت کی شناخت کرنے کی ہے۔اور نیا چاند تمہیں سمجھاتا ہے کہ وقت گزر گیا ہے اور تھوڑا پاتی ہے۔اب بھی کچھ کر لو۔لمبی لمبی تقریریں اور وعظ کرنے کا ایک رواج ہو گیا ہے ورنہ سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ایک لفظ ہی کافی ہے۔کسی نے اسی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہے۔مجلس وعظ رفتنت ہوس است مرگ ہمسایہ واعظ تو بس است پس ان روزانہ موت کے نظاروں سے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے اور تمہارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں، عبرت پکڑو اور خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور کاہلی اور مستی میں وقت کو ضائع مت کرو۔مطالعہ کرو اور خوب کرو کہ بچہ سے لے کے جوان اور بوڑھے تک اور بھیڑ بکری اونٹ وغیرہ جس قدر جاندار چیزیں ہیں، سب مرتے ہیں اور تم نے بھی ایک دن مرنا ہے۔پس وہ کیا بد قسمت انسان ہے جو اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وقت کی کیسی قدر کرتے تھے کہ جب ان کو ماہ رمضان کے فضائل معلوم ہوئے تو معا دوسرے مہینوں کے لئے سوال کیا کہ قرب الہی کے اگر اور ذرائع بھی ہوں تو معلوم ہو جاویں۔