خطبات نور — Page 141
141 کہ میں نے اس کو اور تو کچھ نہ کہا۔صرف یہ پو چھا کہ بناؤ کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ یہ حالت ہو گئی ہے کہ رہنے کو جگہ نہیں، کھانے کو روٹی نہیں۔اس وقت یہاں آیا ہوں کہ فلاں شخص کو پندرہ ہزار روپیہ دیا تھا مگر اب وہ بھی جواب دیتا ہے۔میں نے اس کی اس حالت کو دیکھ کر یہ سبق حاصل کیا کہ چالاکی سے انسان کیا کما سکتا ہے؟ ادھر بالمقابل دیکھئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع نے کیا کمایا؟ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وعظ کرتے ہیں۔چالاکیاں کرتے ہیں۔لیکن ذرا پیٹ میں درد ہو تو بول اٹھتے ہیں کہ ہم گئے۔پس تم وہ چیز بنو جس کا نسخہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے اتباع پر تجربہ کر کے دکھایا ہے کہ جب وہ دیتا ہے تو اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ لمبی کہانی ہے کہ کس کس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی نصرت کی ہے۔اسی شہر میں دیکھو (مرزا غلام احمد ایدہ اللہ الاحد) ایک شخص ہے۔کیا قد میں امام الدین اس سے چھوٹا ہے یا اس کی ڈاڑھی چھوٹی ہے۔اس کا مکان دیکھو تو حضرت اقدس کے مکانوں سے مکان بھی بڑا ہے۔ڈاڑھی دیکھو تو وہ بھی بڑی لمبی ہے۔کوشش بھی ہے کہ مجھے کچھ ملے۔مگر دیکھتے ہو خدا کے دینے میں کیا فرق ہے۔میں یہ باتیں کسی کی اہانت کے لئے نہیں کہتا۔میں ایسے نمونوں کو ضروری سمجھتا ہوں اور ہر جگہ یہ نمونے موجود ہیں۔میں خود ایک نمونہ ہوں۔جتنا میں بولتا کہتا اور لوگوں کو سناتا ہوں اس کا بیسواں حصہ بھی مرزا صاحب نہیں بولتے اور سناتے۔کیونکہ تم دیکھتے ہو وہ خاص وقتوں میں باہر تشریف لاتے ہیں۔اور میں سارا دن باہر رہتا ہوں۔لیکن ہم پر تو بد ظنی بھی ہو جاتی ہے۔لیکن اس کی باتوں پر کیسا عمل ہے۔بات یہی ہے کہ اللہ کا دین الگ ہے اور وہ موقوف ہے ایمان پر۔منصوبہ بازی چالاکیوں سے کام لینے والے بامراد نہیں ہو سکتے۔وہ اپنی تدابیر اور مکائد پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یوں کر لیں گے مگر اللہ تعالیٰ ان کو دکھاتا ہے کہ کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دینے کے منتظر بنو۔اور یہ عطا منحصری ایمان پر ہے۔اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جو ملا وہ سب سے بڑھ کر ملا۔شرط یہ ہے۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو۔نماز سنوار کر پڑھو۔نماز مومن کی الگ اور دنیادار کی الگ اور منافق کی الگ ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پاک نام ابراہیم بھی تھا جس کی تعریف اللہ تعالی فرماتا ہے۔إِبْرَاهِيم الذِي وَفَّى اور وہی ابراہیم جو جَاءَ بِقَلْبِ سَلِيمٍ (الصافات: ۸۵) کا مصداق تھا اس نے سچی تعظیم امر الہی کی کر کے دکھائی۔اس کا نتیجہ کیا دیکھا۔دنیا کا امام ٹھہرا۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم ہوتا ہے کہ