خطبات نور — Page 127
127 فتوی دیا گیا۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے بھائیوں میں ابھی یہ وحدت پیدا نہیں ہوئی یا ہوتی ہے تو بہت - کمزور ہے۔تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ تم نے اس کو کامل صفات سے موصوف مانا ہے اور یہاں تک تم نے توحید سے حظ اٹھایا ہے کہ اگر کوئی غلطی سے مخلوق میں سے کسی کو ان صفات سے موصوف مانتا تھا تم نے اس کو بھی اس امام کے طفیل سے چھوڑا اور اب تم پاک ہو گئے کہ مسیح کو خالق اور باری، محلل، محرم اور محی اور میت اور عالم الغیب سمجھو۔تو جیسے یہ امتیاز حاصل کیا تھا اب کیسی ضرورت تھی کہ پھر صحابہ کی طرح تمہارے سارے تعلقات اس شجر طیبہ کے ساتھ ہوتے جس کے ساتھ پیوند ہو کر وہ تمام پھل لانے والے تم ہو سکتے تھے۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے جب میں کسی کو ایسے تعلقات ہے باہر دیکھتا ہوں۔دیکھو تمہارے تعلقات، تمہارے چال چلن ، شادی و غمی، حسن معاشرت، تمدن سلطنت کے ساتھ تعلقات، غرض ہر قول و فعل آئندہ نسلوں کے لئے ایک نمونہ ہو گا۔پھر کیا تم چاہتے ہو کہ رحمت اور فضل کا نمونہ تم بنو یا لعنت کا۔پس دعائیں کرو کہ تم جو اس پاک چشمہ پر پہنچے ہو اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے سیراب کرے اور عظیم الشان فضل اور خیر کے حاصل کرنے کی تمہیں توفیق ملے۔اور یہ سب توفیقیں اس وقت ملیں گی جب تمہارے سب معاملات ایک درخت سے وابستہ ہوں۔پس ان سارے چندوں اور اغراض میں ایک ہی تنا اور جڑ ہو۔پھر ایسی وحدت ہو کہ تمام دغا اور فریب، کپٹ سے بری ہو جاؤ۔شائد تم نے سمجھا ہو کہ کسی کتاب کا نام کشتی نوح ہے۔نہیں، کچھ اغراض و مقاصد ہیں، کچھ عقائد اور اعمال ہیں۔اس پر وہی سوار ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کی تعلیم کے موافق بناتا ہے۔پھر ان سب کے بعد تقویٰ کی وہ راہ ہے جس کا نام روزہ ہے۔جس میں انسان شخصی اور نوعی ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے ایک وقت معین تک چھوڑتا ہے۔اب دیکھ لو کہ جب ضروری چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے تو غیر ضروری کا استعمال کیوں کرے گا۔روزہ کی غرض اور غایت یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں میں اللہ کو ناراض نہ کرے۔اس لئے فرمایا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره:۱۸۴) پھر جیسے پنجگانہ نمازیں ہر محلے میں باجماعت پڑھتے ہیں اور پھر جمعہ کی نماز سارے شہر والے اسی طرح ارد گرد کے دیہات والے اور کل شہر کے باشندے جمع ہو کر عید کی نماز ایک جگہ پڑھتے ہیں۔اس میں بھی وہی وحدت کی تعلیم مقصود ہے۔غرض اسلام نے ہر رکن میں ایک وحدت کو قائم کیا ہے پھر اس کو قائم رکھنے کے لئے خاص حکم بھی دیا لا تَنَازَعُوا (الانفال (۴۷) باہم کش مکش نہ کرو۔کیونکہ جب ایک