خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 3 of 703

خطبات نور — Page 3

3 ایمان لاؤ کہ تمام محامد اور تعریفوں اور خوبیوں کے لئے وہی ایک پاک ذات سزاوار ہے۔جس طرح سے اللہ تعالی اپنی مخلوق پر رحم کرتا اور شفقت اور پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہے تم بھی اس کی مخلوق کے ساتھ کچی محبت اور حقیقی شفقت کرو اور رحم اور ہمدردی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کرو۔میں پھر کہتا ہوں سوچو اور غور کرو کہ تقویٰ کے سوا فائدہ نہیں۔خدا تعالیٰ نے صاف صاف لفظوں میں اس بات کو کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ مغرب یا مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا ہی نیکی نہیں بلکہ سچا ایمان خدا کو مطلوب ہے۔اس لئے اس بات پر ایمان لاؤ کہ وہ خدا قدوس ہے، تمام رحمتوں ، بزرگیوں اور سچائیوں کا سرچشمہ ہے اور اس کے قرب کے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا پورا لحاظ رکھیں۔خدا تعالیٰ کی صفت ہے کہ بدکار اور غافل بھی اس کی ربوبیت سے فیض پاتے ہیں اور حصہ لیتے ہیں۔پس تم بھی خدا کی مخلوق کے ساتھ مہربانی، نیکی اور سلوک کرنے میں مسلم غیر مسلم کی قید اٹھا دو اور تمام بنی نوع انسان سے جہاں تک ممکن ہو احسان کرو۔خدا رَبُّ الْعَالَمِین ہے۔یہ بھی رَحِيمُ لِلْعَالَمِین ہو جاوے۔پس یہ تقویٰ ہے۔ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جن کی نسبت فرمایا کہ نَسُوا اللَّهَ فَانْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ یعنی جنہوں نے اس رحمت اور پاکی کے سرچشمہ قدوس خدا کو چھوڑ دیا اور اپنی شرارتوں، چالاکیوں نا عاقبت اندیشیوں، غرض قسم قسم کی حیلہ سازیوں اور روباہ بازیوں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔مشکلات انسان پر آتی ہیں۔بہت سی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں۔کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔دوست بھی ہوتے ہیں۔دشمن بھی ہوتے ہیں۔مگر ان تمام حالتوں میں متقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو۔دوست پر بھروسہ ہو تو ممکن ہے کہ وہ دوست مصیبت سے پیشتر دنیا سے اٹھ جاوے یا اور مشکلات میں پھنس کر اس قابل نہ رہے۔حاکم پر بھروسہ ہو تو ممکن ہے کہ حاکم کی تبدیلی ہو جاوے اور وہ فائدہ اس سے نہ پہنچ سکے اور ان احباب اور رشتہ داروں کو جن سے امید اور کامل بھروسہ ہو کہ وہ رنج اور تکلیف میں امداد دیں گے اللہ تعالیٰ اس ضرورت کے وقت ان کو اس قدر دور ڈال دے کہ وہ کام نہ آسکیں۔پس ہر آن خدا سے تعلق نہ چھوڑنا چاہئے جو زندگی موت کسی حال میں ہم سے جدا نہیں ہو سکتا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر لیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم دکھوں سے محفوظ نہ رہ سکو گے اور سکھ نہ پاؤ گے بلکہ ہر طرف سے ذات