خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 703

خطبات نور — Page 2

2 قدوس خدا پاکیزگی اور طہارت چاہتا ہے) تو پھر اس دعوائے ایمان کے ساتھ متقی بن جاؤ۔اور متقی بھی ظاہر کے نہیں۔اس لئے نہیں کہ لوگ تمہیں متقی اور پرہیز گار کہیں یا مجلسوں میں تمہاری تعریف کریں۔نہیں ! نہیں !! اِتَّقُوا اللہ اللہ تعالیٰ کے متقی بنو۔متقی کے لئے یہ ضروری باتیں ہیں۔اولا۔ہر ایک کام جب کرو ، اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے، دشمنی میں، دوستی میں عداوت اور محبت میں مقدمہ ہو یا صلح ہو، غرض ہر حالت میں یہ امر خوب ذہن نشین رکھو کہ نہیں معلوم موت کی گھڑی کس وقت آجاوے۔وہ کونسا وقت ہو گا جب دنیا سے اٹھ جاویں گے اور اس وقت ماں ، باپ، بیوی، بچے دوست یار کنبے کے بڑے بڑے ہمدردی کا دم بھرنے والے انسان مال، دولت، غرض کوئی چیز نہ ہو گی جو اس وقت ساتھ دے سکے۔اس وقت اگر کوئی چیز ساتھ جا سکے گی تو وہ وہی انسان کا عمل ہو گا خواہ اچھا ہو خواہ برا ہو اور جیسا عمل ہو گا ویسا ہی اس کا پھل ملے گا۔جیسے تم ہر روز دنیا میں دیکھتے ہو کہ ایک زمیندار گیہوں کے بیج بو کر جو یا جو بو کر گنے کا پھل نہیں لے سکتا پس اسی طرح پر جیسے عمل ہوں گے ، بدلہ ان کے ہی موافق اور رنگ کا ہو گا۔یہی سچی بات ہے کہ ملے کام کا پھل دنیا اچھا اٹھاتی ہے۔پس یہ بات ضرور ضرور یاد رکھو کہ جن کی خاطر انسان عداوتیں اور دشمنیاں کرتا ہے اور مکرو فریب اور کیا کیا شرارتیں کرتا ہے، وہ اس آخری ساعت میں اس کے ساتھ نہ جائیں گی۔اکیلا ہی آیا ہے اور اکیلا ہی چلا جائے گا۔بادشاہوں کی بادشاہت امیروں کی امارت دوستوں کی دوستی کنبہ گھر پڑوس گاؤں اور سارے شہر کے رشتہ دار ہیں رہ جاتے ہیں۔پس ان ساری باتوں کو غور کرو اور موت کی آنے والی اور یقینا آنے والی اور نہ ٹلنے والی گھڑی کا خیال رکھو اور اس خیال کے ساتھ ہی کل کا فکر آج کرو اور اپنے اعمال کا محاسبہ اور پڑتال کر لو کیونکہ نیک بدلہ تب ہی ملے گاجب کہ اعمال بھی نیک ہوں گے۔ثانیا۔متقی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ایمان سچا ایمان ہو اور اس کے عقائد نیک عقائد ہوں اور پھر اس پر اعمال بھی نیک ہوں۔ایمان کے اصول صاف ہیں۔قدوس اور پاک خدا قدوسیت چاہتا ہے۔ناپاک انسان پاک ذات سے تعلق پیدا نہیں کر سکتا۔تم اپنے اندر اس بات کو دیکھو کہ کیا کوئی بھلا مانس اور شریف پسند کرتا ہے کہ وہ بد معاش اور بدنام آدمیوں کے ساتھ ملے اور تعلق پیدا کرے۔پھر اس پر قیاس کرو کہ وہ خدا جو قدوسوں کا قدوس اور پاک ہے جو تمام محامد اور خوبیوں کا مجموعہ اور سرچشمہ ہے کب پسند کر سکتا ہے کہ گندے اور ناپاک لوگ اس سے تعلق رکھ سکیں۔پس اگر خدا سے رشتہ قائم رکھنا چاہتے ہو اور اس کو خوش کرنا پسند کرتے اور ضروری سمجھتے ہو تو خود بھی پاک ہو جاؤ اور اس پر کچا