خطبات نور — Page 90
خطبات، نور 90 کو مان لیا ہے؟ وہ لوگ چونکہ اپنے نفس کے غلام اور اپنے جذبات کے تابع فرمان ہوتے ہیں اس لئے پھر کہہ دیتے ہیں کہ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ (القصص:۳۷) ہم نے یہ باتیں جو یہ بیان کرتا ہے اپنے آباء واجداد سے تو کبھی بھی نہیں سنی ہیں۔جب کوئی مامور من اللہ آتا ہے تو نادان بد قسمتی سے یہ اعتراض بھی ضرور کرتے ہیں کہ یہ تو نئی نئی بدعتیں نکالتا ہے اور ایسی تعلیم دیتا ہے جس کا ذکر بھی ہم نے اپنے بزرگوں سے نہیں سنا۔اس وقت بھی جب خدا کی طرف سے ایک مامور ہو کر آیا اور اس نے سنت انبیاء کے موافق ان بدعتوں اور مشرکانہ تعلیموں کو دور کرنا چاہا جو قوم میں بعد زمانہ کے باعث پھیل گئی تھیں تو ناعاقبت اندیش ناقدرشناس قوم نے بجائے اس کے کہ اس کی آواز پر آگے بڑھ کر لبیک کہتی اس کی مخالفت شروع کی اور نوح کی قوم کی طرح اس کی باتوں کو سن کر یہی کہا مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ یہ سلف کے خلاف ہے۔یہ اجماع امت کے مخالف ہے۔فلاں بزرگ کے اقوال میں کہاں لکھا ہے ؟ فلاں مصنف کے مخالف ہے وغیرہ وغیرہ۔یہی صدائیں ہمارے کان میں آرہی ہیں۔ورنہ اگر غور کیا جاتا اور ذرا ٹھنڈے دل سے ان باتوں پر توجہ کی جاتی جو خدا کا مامور لے کر آیا تھا اور سنن انبیاء کے موافق اس کی تعلیم کو دیکھا جاتا تو آسانی کے ساتھ یہ عقدہ حل ہو سکتا تھا۔مگر افسوس! ان نادانوں نے جلد بازی سے وہی کہا جو پہلے معترضوں اور مخالفوں نے کہا۔میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں انبیاء ورسل کے مخالفوں کے اعتراضوں کو پڑھ کر مجھے بڑی عبرت ہوئی ہے اور خدا کے فضل سے میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ میرے سامنے اب کسی نشان یا اعجاز کی ضرورت میرے ماننے کے لئے نہیں رہی۔اس لئے تمہیں میں یہ اصول سمجھاتا ہوں کہ مامور من اللہ جب آتے ہیں تو کیا لے کر آتے ہیں اور ان پر کس قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں؟ میں نے بارہا معترضوں اور مخالفوں سے اب بھی پوچھا ہے کہ کوئی ایسا اعتراض کریں جو کسی نبی پر نہ کیا گیا ہو۔مگر میں سچ کہتا ہوں کہ کوئی نیا اعتراض پیش نہیں کرتے۔میں تعجب کرتا ہوں کہ آج جو لوگ حضرت اقدس کی مخالفت میں اٹھے ہیں ان کے معتقدات کا تو یہ حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کی اصل غرض اور قرآن شریف کی تعلیم کا خاص منشاء دنیا میں کچی توحید کا قائم کرنا تھا مگر لوگوں کو پوچھو تو وہ مسیح کو خالق مانتے ہیں كَخَلْقِ اللهِ شافی مانتے ہیں۔عَالِمُ الْغَيْبِ یقین کرتے ہیں۔مُحْسِنی اسے مانتے ہیں۔حلال اور حرام ٹھہرانے والا اسے سمجھتے ہیں۔قدوس وہ ہے۔ساری دنیا کے راستبازوں حتی کہ اصفی الاصفیا سرور انبیاء صلی اللہ علیہ و سلم تک کو مس شیطان سے بری نہیں سمجھتے مگر مسیح کو بری کرتے ہیں۔مسیح خلا میں ہے زندہ ہے مگر باقی سارے نبی فوت ہو چکے۔اس کے آئندہ مرنے کے دلائل بھی بودے کمزور اور ایسے الفاظ پر