خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 642 of 703

خطبات نور — Page 642

642 ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مردہ کو کوئی ثواب وغیرہ نہیں پہنچتا۔وہ جھوٹے ہیں۔ان کو غلطی لگی ہے۔میرے نزدیک دعا استغفار، صدقہ خیرات بلکہ حج، زکوة روزے یہ سب کچھ پہنچتا ہے۔میرا یہی عقیدہ ہے اور بڑا مضبوط عقیدہ ہے۔ایک صحابی نبی کریم ملی امیہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری ماں کی جان اچانک نکل گئی ہے۔اگر وہ بولتی تو ضرور صدقہ کرتی۔اب اگر میں صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا؟ تو نبی کریم میں ہم نے فرمایا۔ہاں۔تو اس نے ایک باغ جو اس کے پاس تھا، صدقہ کر دیا۔میری والدہ کی وفات کی تارجب مجھے ملی تو اس وقت میں بخاری پڑھا رہا تھا۔وہ بخاری بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی۔میں نے اس وقت کہا۔اے اللہ ! میرا باغ تو یہی ہے۔تو میں نے پھر وہ بخاری وقف کر دی۔فیروز پور میں فرزند علی کے پاس ہے۔وَذِي الْقُرْبى پھر حسب مراتب قریبوں سے نیک سلوک کرو اور قیموں اور مسکینوں سے نیک سلوک کرو۔قولُوا لِلنَّاسِ حُسنا قال کا لفظ عربی زبان میں فصل کے برابر لکھا ہے بلکہ اس سے وسیع لکھا ہے۔اس سے کم ضَرَبَ کا لفظ لکھا ہے۔لوگوں کو بھلی باتیں کہو۔بد معاملگیاں چھوڑ دو۔بد معاملگیوں سے باز آجاؤ۔وَاقِيْمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكوة نمازیں پڑھو اور زکوۃ دیا کرو۔ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ تم پھر جاتے ہو۔باز نہیں آتے۔اگر کسی کا روپیہ ہاتھ میں آگیا تو اسے شیر مادر سمجھ لیا اور اسے دینے میں آتے ہی نہیں۔اللہ تم پر رحم کرے۔الفضل جلد نمبر ۲۵---۱۳ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) ⭑-⭑-⭑-⭑