خطبات نور — Page 630
630 اس کے حکم کے تحت کارکن ہیں۔ان کی معرفت حکم الہی آتا ہے اور بالواسطہ بھی آتا ہے اور جن کے پاس آتا ہے اگر وہ مامور ہوں تو وہ رسول کہلاتے ہیں اور سب کے سردار نبی کریم میں ہی ہیں۔اس کے بعد دوزخ، جنت، پل صراط قیامت برحق ہیں۔میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں اور خوب سمجھ کر پڑھی ہیں۔مجھے قرآن کے برابر پیاری کوئی کتاب نہیں ملی۔اس سے بڑھ کر کوئی کتاب پسند نہیں ہے۔قرآن کافی کتاب ہے۔اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا (العنكبوت: ۵۲)۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں اور آتے رہیں گے۔میں نے اپنے زمانہ میں میرزا غلام احمد صاحب کو دیکھا ہے۔سچا پایا اور بہت ہی راستباز تھا۔جو بات اس کے دل میں نہیں ہوتی تھی وہ نہیں منوا تا تھا۔اس نے بھی ہم کو یہی حکم دیا کہ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو اور فرمایا کہ قرآن کے بعد اگر کوئی کتاب ہے تو بخاری ہے۔اس نے تین دعوے کئے۔اول حضرت عیسی " مر گئے۔اس کے دلائل و اصول بتائے اور قرآن سے ثابت ہوئے کہ واقعی مرگئے جیسے فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (الاعراف (٣٢) أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانًا اَحْيَاء وَ أمْوَانًا (النمرسلات (۲۷۲۹)۔دوئم ایک عیسی کی آمد ہے اور فرمایا کہ وہ میں ہوں۔ہم نے اس کو نشانوں سے مانا اور میں خود بھی نشان ہوں اور میرا گھر بھی نشانوں سے بھرا پڑا ہے۔تیسرا جو طبعی موت سے مر جاتے ہیں وہ پھر اس دنیا میں نہیں آتے۔اس کو بھی ہم نے واضح طور سے اور بالکل قرآن کریم کے مطابق پایا۔باقی مسئلہ کوئی ایسا نہ تھا۔اگر کوئی ان سے مسئلہ پوچھتا تو اکثر میرے پاس بھیج دیتے کہ نورالدین سے پوچھ لو۔ایک دفعہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ کو خواب یا کشف میں دیکھا۔میں نے آپ سے سوال کیا کہ حضرت ابو بکر اور آپ کی فضیلت کا مسئلہ دنیا میں بیچ دار ہو رہا ہے۔اس کا اصل کیا ہے؟ فرمایا۔انسان کی فضیلت موقوف ہے اس تعلق پر جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے ہے۔دلوں کے حالات کو عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (ال عمران : ۱۳۰) کے سوا کون جانتا ہے۔اب ایک اور سوال ہے۔خواجہ کمال الدین کون ہے اور نور الدین کون ہے؟ یہ عیار لوگوں کا کام ہے۔نہ نماز سے مطلب نہ حج کا فکر نہ روزہ کا خیال۔ایک نے سوال کیا ہے کہ آپ نے کہا ہے۔چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت کمال دیں بودے حالا نکہ یہ مصرعہ ہی غلط ہے۔(اکبر شاہ خانصاحب کو استشہاد شاعری کے لئے کھڑا کیا۔بتائیے یہ مصرعہ