خطبات نور — Page 601
601 خطبات فور چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے مومن کو ایک نعمت بخشی تھی۔تعجب ہے کہ مسلمانوں نے صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم تو مومن ہیں، کافی سمجھا ہے۔ایک رنڈی بھی کہتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔کیا اسلام اسی کا نام ہے؟ غور کرو تم نے مسلمان کہلا کر جھوٹ سے اپنے آپ کو کس قدر بچایا۔تکبر سے فضولی سے کتنی دوری اختیار کی۔آج کل کی تعلیم پر کتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں اور ایک موہوم کامیابی کی امید پر۔اور اس کے مقابل میں دین پر کیا خرچ کرتے ہیں جس میں کامیابی یقینی ہے۔میرے پاس ایک معزز پادری آئے۔دیسی تھے۔ان کو مشورہ طبی کی ضرورت تھی۔بیٹا جوان تھا۔جب میں نے نسخہ بتایا تو ساتھ ہی میں نے کہا کہ چونکہ آپ پادری ہیں اور ہر چیز کھا لیتے ہیں اس لئے کچھ پر ہیز بھی بتاتا ہوں۔کہنے لگے آپ نے ہمیں سمجھا کیا ہے؟ میں نے کہا میں آپ کو جانتا ہوں کہ آپ عیسائی ہیں۔اس پر وہ کہنے لگے ہم تو ہندو ہیں۔ہمارے بچے بہت ہیں۔ان کی تعلیم کا خرچ کہاں سے لائیں؟ اس لیے مصلحنا ہم سب کے سب عیسائی کہلاتے ہیں ورنہ ہم تو ماس بھی نہیں کھاتے۔لڑکوں کے پڑھانے کے واسطے روپیہ مل جاتا ہے اس لئے پادری کہلاتے ہیں۔میں نے کہا ان کے مذہب سے کچھ سروکار نہیں؟ کہا ہرگز نہیں۔ان کی یہ بات سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ہماری پاک کتاب میں لکھا ہے کہ انسان اگر متقی بن جائے مومن ہو، فضولی نہ کرے، سنوار والے کام کرتا رہے تو اللہ وعدہ کرتا ہے کہ اسے اعلیٰ سے اعلیٰ مکان طیب سے طیب رزق دے گا۔پس اس پادری کی طرح فریب و دغا کی کیا ضرورت تھی؟ دنیا کے آرام کے لئے بھی سچا مومن بن جانا کافی ہے۔ان نعماء جنت کا بیان کر کے فرماتا ہے کہ دنیا کی نعمتوں کی مثال تو ان کے مقابل میں مچھر کی سی ہے۔یعنی دنیا کی چیزوں کی بہشت کی نعمتوں کے سامنے ایک پیشہ کی برابر بھی حقیقت نہیں۔ایسی مثالوں سے مومن حق کو پالیتا ہے۔اور کافر کہتا ہے تمثیلوں سے کیا فائدہ۔بہت سے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں مگر گمراہ وہی ہوتے ہیں جو فاسق ہوں۔فاسق کس کو کہتے ہیں؟ جو اللہ کے حکموں کو جو بڑی مضبوطی سے دیے گئے تو ڑ دیتا ہے۔جن سے خدا کہتا ہے تعلق کرو ان سے قطع کرتا ہے۔اور جن سے کہتا ہے بے تعلق رہو، ان سے تعلق جوڑتا ہے۔مسلمانوں میں بھی میں نے بہت دیکھے ہیں جو اپنے رشتہ داروں سے بے تعلق ، پڑوسیوں سے جھگڑتے ہیں مگر غیروں سے محبت رکھتے ہیں۔اپنے اساتذہ اپنے بزرگوں سے قطع تعلق کر لیتے ہیں مگر ایک اجنبی شخص کو جس کا کوئی تعلق نہیں اپنی جان تک دینے کو حاضر رہتے ہیں۔زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔یہ لوگ خَاسِرُونَ ، گھاٹا پانے والے ہیں۔