خطبات نور — Page 569
569 دیکھو ہم جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے خوب جانتے ہیں اور اس کا حساب تم سے لیں گے۔بہت سے لوگ ہیں جن کو روپیہ مل جائے وہ تمھیں مارخان بن بیٹھتے ہیں۔ان کو واضح رہے کہ حساب ہو گا اور ضرور ہو گا۔ذرا تم اپنے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ اٹھارہ برس کے بعد ہی سے سی آج تک اپنے نفس کے عیش و آرام کے لیے کس قدر کوشش کی ہے اور اپنی بیوی بچوں کے لیے کیسے کیسے مصائب جھیلے ہیں اور خدا کو کہاں تک راضی کیا۔سوچو! اپنے ذاتی و دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے کتنی کوششیں کرتے ہو اور اس کے مقابلہ میں الہی احکام کی نگہداشت کس حد تک کرتے ہو۔ایک مخلص لڑکا پنکھا کر رہا تھا اسے فرمایا کہ چھوڑ دو۔اس طرح سننے میں حرج ہوتا ہے۔ایسی باتوں کا مجھے خیال تک نہیں ہوتا اور میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ خدا کے فضل سے تمہارے سلام کا تمہاری نذرونیاز کا تمہاری تعظیم کا ہرگز محتاج نہیں۔میری تو یہ حالت ہے کہ میں جمعہ کے لئے نہا رہا تھا۔نفس کا محاسبہ کرنے لگا اور اس خیال میں ایسا محو ہوا کہ بہت وقت گزر گیا۔آخر میری بیوی نے مجھے آواز دی کہ نماز کا وقت تنگ ہوتا جاتا ہے۔وقت کا یہ حال اور ہم ہیں کہ تنگ دھڑنگ بیٹھے لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَ مَا فِي الارْضِ وَ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ الله (البقرة: ۳۸۵) کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اگر میری بیوی مجھے یاد نہ دلاتی تو ممکن تھا اسی حالت میں شام ہو جاتی۔غرض تم لوگ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتیں جانتا ہے اور ایک دن تمہارا حساب ہو گا۔خود حساب دینا ہی ایک خطرناک معاملہ ہے۔پاس کرنا اور ناکام رہنا تو دوسری بات ہے۔جو تقویٰ کی راہ پر چلا اسے بخش دے گا اور جو گمراہ ہیں ان کو عذاب ہو گا۔ہمارا رسول اور دوسرے مومن تو اس طریق پر چلتے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔فرشتوں کی نیک تحریکیں مانتے ہیں اور ان میں تفرقہ نہیں کرتے۔یعنی یوں نہیں کہ کسی کو مان لیا اور کسی کو نہ مانا۔پھر ان کی گفتار ان کے کردار سے کیا نکلتا ہے؟ (قَالُوا کے معنے بتایا زبان سے یا اپنے کاموں سے) سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا ثابت کرتے ہیں۔نہ صرف وہ اپنی زبان بلکہ اپنے اعمال سے دکھاتے ہیں کہ باتیں سنیں اور ہم فرمانبردار ہیں۔تیری مغفرت طلب کرتے ہیں۔تیرے حضور ہم نے جاتا ہے۔اے مولا! تو ہی ہمیں طاقت عطا فرما اور ہمارے نسیان و خطا کا مواخذہ نہ کر۔ہم پر وہ بوجھ نہ رکھ جو ہم سے برداشت نہ ہو سکیں۔یہ دعا مومنوں کی ہے۔تم یہی مانگا کرو۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ہر وقت جناب الہی سے مغفرت طلب کرتے رہو اور اسی کو اپنا والی اور ناصر جانو۔بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو سمجھانے والے کے